مری:ن لیگ کا اہم مشاورتی اجلاس ختم، آزاد کشمیر کی نئی حکومت کی ترجیحات زیرِ غور

مری: مسلم لیگ ن کا اہم مشاورتی اجلاس مری میں اختتام پذیر ہوگیا ہے، جس میں آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام اور آئندہ کی حکومتی ترجیحات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف، وزیراعظم میاں شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آزاد کشمیر سے نو منتخب مسلم لیگی اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔

اجلاس میں آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومتی ترجیحات، گڈ گورننس، عوامی مسائل کے فوری حل، انتظامی اصلاحات اور ترقیاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آزاد کشمیر میں ایسی حکومت تشکیل دی جائے جو عوامی توقعات پر پورا اترنے، میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے ساتھ بنیادی مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب پر مشاورت:

اجلاس میں اگلے وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب پر بھی غور کیا گیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اس وقت وزارت عظمیٰ کے لیے مضبوط ترین امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر حکومت سازی، ن لیگ کا آج اہم اجلاس،نئے قائد ایوان کی نامزدگی متوقع

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر، طارق فاروق اور ریٹائرڈ کرنل وقار کے نام بھی وزارت عظمیٰ کے لیے زیر غور ہیں۔ آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم کے انتخاب کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو دے دیا ہے۔

مخصوص نشستوں کے امیدوار بھی زیر غور:

اجلاس میں آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے امیدواروں کے ناموں پر بھی مشاورت کی گئی۔ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی جانب سے مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی ایک تجویز کردہ فہرست پہلے ہی میاں نواز شریف کو غور کے لیے پیش کی جاچکی ہے۔

خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے ماریہ اقبال ترانہ، ناصرہ خان، مریم کشمیری، نثارہ عباسی اور سحرش قمر کے نام زیر غور ہیں۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے راجہ شاداب سکندر جبکہ علماء و مشائخ کی نشست کے لیے پیر مظہر سعید کا نام تجویز کیا گیا ہے۔

اوورسیز کی مخصوص نشست کے لیے راجہ محمد جاوید کو نامزد کیے جانے کا امکان ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق امیدواروں کے ناموں کی حتمی منظوری مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دی جائے گی۔

عوامی مسائل اور ترقیاتی ایجنڈے پر غور

اجلاس کے دوران تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر، بجلی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات سمیت عوام کو درپیش مسائل کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ ن عوامی مینڈیٹ کو خدمت کا ذریعہ بناتے ہوئے آزاد کشمیر میں مؤثر، متحرک اور عوام دوست طرز حکمرانی متعارف کرانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نئی حکومت میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس کو یقینی بنائے اور عوامی توقعات پر پورا اترنے کے ساتھ بنیادی مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دے۔

مزید پڑھیں: یادگارِ شہدائے کیرن میں جشنِ آزادی کی پروقار تقریب کا انعقاد

انتظامی اصلاحات اور حکومتی ترجیحات:

آزاد کشمیر میں نئی حکومت کے قیام کے بعد انتظامی اصلاحات اور ترقیاتی ایجنڈے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں عوامی مسائل کے فوری حل اور مختلف شعبوں میں حکومتی ترجیحات کے حوالے سے تجاویز زیر غور آئیں۔

مسلم لیگ ن کی قیادت اور آزاد کشمیر سے نو منتخب اراکین اسمبلی کے اجلاس میں حکومت سازی کے عمل کے ساتھ ساتھ نئی حکومت کی ترجیحات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اقدامات پر بھی مشاورت کی گئی۔