امریکا نے نیٹو اتحادی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے مستقبل کے حوالے سے ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے وابستگی اور حمایت جانچنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ فوجی اثاثوں میں ممکنہ کمی سے قبل اتحادیوں سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حال ہی میں نیٹو رکن ممالک کو بھیجی گئی ایک دستاویز میں امریکا نے اتحادی ممالک سے متعدد سوالات کیے ہیں، جن کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور امریکی خارجہ پالیسی کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔
امریکی پالیسی کی حمایت اور فوجی اڈوں سے متعلق سوالات:
رپورٹ کے مطابق اس دستاویز میں نیٹو ممالک سے پوچھا گیا ہے کہ کیا انہوں نے عوامی سطح پر امریکی خارجہ پالیسی کی حمایت کی ہے؟ اس کے علاوہ یہ بھی جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کسی اتحادی ملک نے امریکی فوج کو اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کے حوالے سے کوئی پابندیاں عائد کی ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے متعلق بیان،ایران کا سخت ردعمل آگیا
یہ سوالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نیٹو کے دفاع کے لیے یورپ میں تعینات اپنے فوجی وسائل اور اثاثوں میں ممکنہ کمی پر غور کر رہا ہے۔
امریکی دفاعی کمپنیوں سے خریداری اور تجارتی روابط:
دستاویز میں اتحادی ممالک کے دفاعی اخراجات اور امریکی دفاعی کمپنیوں کے ساتھ ان کے مالی و تجارتی روابط کو بھی جانچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ امریکا یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ متعلقہ ممالک امریکی دفاعی کمپنیوں سے سامان خریدنے پر کتنا خرچ کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا کسی ملک نے ایسی پابندیوں یا ضوابط کی عوامی سطح پر مخالفت کی ہے جو امریکی کمپنیوں کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں رکاوٹ بنتے ہوں۔
’مضبوط، واضح اور خاموش‘ پالیسی سے ہم آہنگی:
دستاویز میں مجموعی طور پر اتحادی ممالک سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا انہوں نے امریکی طرز حکمرانی اور دفاعی پالیسی کے اس تصور سے ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ہے جسے ’مضبوط، واضح اور خاموش‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ اصطلاح امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ایک بیان سے منسوب کی گئی ہے۔
یوں امریکا کی جانب سے تیار کردہ سوالنامہ صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اس میں اتحادی ممالک کے سیاسی مؤقف، امریکی خارجہ پالیسی کی حمایت، فوجی اڈوں تک رسائی اور امریکی دفاعی صنعت کے ساتھ تجارتی روابط کو بھی بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔




