صدر مملکت آصف علی زرداری نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی ملکی اور غیر ملکی شخصیات کیلئے پاکستان سول ایوارڈز کا اعلان کردیا۔
ایوان صدر کی جانب سے جاری فہرست میں سیاست، سرکاری خدمات، سفارت کاری اورشوبزسمیت مختلف شعبوں سے وابستہ355شخصیات کو اعزازات دینے کی منظوری دی گئی ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو نشان امتیاز دینے کی منظوری دی گئی ہے۔
وفاقی وزرا محمد اورنگزیب، احد چیمہ اور بلال اظہر کیانی کو بھی سول ایوارڈز سے نوازا جائے گا جبکہ سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال بھی اعزازات حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔
بین الاقوامی شخصیات میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کو ستارہ امتیاز دینے کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ ترکیہ کے وزیر دفاع اور وزیر تجارت کو بھی سول ایوارڈز دیے جائیں گے۔ روسی فیڈریشن کے نائب وزیراعظم کو بھی سول ایوارڈ دینے کی منظوری دی گئی ہے۔
شوبز اور فنون لطیفہ سے وابستہ شخصیات کیلئے بھی متعدد اعزازات کا اعلان کیا گیا ہے، اداکارہ نشو بیگم، گلوکارہ ترنم ناز اور اسٹیج اداکار افتخار ٹھاکر کو ستارہ امتیاز جبکہ صوفی اوپرا سنگر سارہ پیٹر کو بھی ستارہ امتیاز دیا جائے گا۔
اداکارہ ماریہ واسطی، ثانیہ سعید اور اداکار محمود اسلم کو صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ گلوکارہ گلشن آرا سید اور پپو سمراٹ بھی صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی حاصل کریں گے، اداکار و میزبان نورالحسن اور گلوکار شیراز اوپل کو تمغہ امتیاز عطا کیا جائے گا۔
صحافت
صحافت کے شعبے میں 11 شخصیات کو سول ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ محمد صالح ظافر اور حاجی نواز رضا کے لیے ستارہ امتیاز جبکہ سید حامد غزنوی اور فوٹوگرافر محمد عامر خان کے لیے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کی سفارش کی گئی ہے۔
اسی طرح دیگر صحافیوں، اور اینکرز کے لیے تمغہ امتیاز کی سفارش کی گئی ہے جن میں محمد ریاض خان، شعیب احمد، عمار مسعود، ڈاکٹر ماریہ ذولفقار، عادل شازیب، حماد حسن، اور تصور عرفات شامل ہیں۔
سائنس
سائنس کے شعبے میں 6 شخصیات کے لیے اعزازات کی سفارش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر شاہد محمود کے لیے ہلالِ امتیاز، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر سید ظفر الیاس اور پروفیسر ڈاکٹر مدثر اسرار کے لیے ستارہ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سجاد حسین، پروفیسر ڈاکٹر انیلا زمییر جعفری اور ڈاکٹر عروج سعید کے لیے تمغہ امتیاز کی سفارش کی گئی ہے۔
انجینئرنگ
انجینئرنگ کے شعبے میں صرف دو افراد، ڈاکٹر محمد صادق اور پروفیسر ڈاکٹر نعیم الحق طارق، کے لیے تمغۂ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
تعلیم
تعلیمی شعبے میں 21 شخصیات کے نام شامل ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ معظم اعجاز کے لیے ہلالِ امتیاز جبکہ پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ، پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، ڈاکٹر راشد امجد اور ڈاکٹر ظفر اقبال قادر کے لیے ستارہ امتیاز کی سفارش کی گئی ہے
۔ دیگر 16 شخصیات کے لیے تمغۂ امتیاز تجویز کیا گیا ہے، جن میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، اساتذہ، محققین اور ماہرین تعلیم شامل ہیں۔
طب
طبی شعبے میں 10 شخصیات کو سول ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ پروفیسر فیصل سعود ڈار کے لیے ہلالِ امتیاز، جبکہ مرحوم پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی، پروفیسر ڈاکٹر سید جمال رضا، مرحوم ڈاکٹر نسیم صلاح الدین، ڈاکٹر شاہ خالد اور پروفیسر ڈاکٹر محمد خرم کے لیے ستارہ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نعیم تاج، ڈاکٹر عبد الواسع، ڈاکٹر محمد شریف ہاشمانی اور ڈاکٹر معاذ الحسن کے لیے تمغۂ امتیاز کی سفارش ہوئی ہے۔
فنون
فنون کے شعبے میں 53 شخصیات شامل ہیں۔ پروڈیوسر سلطانہ صدیقی کے لیے ہلالِ امتیاز جبکہ اداکارہ نشو بیگم، کامیڈین افتخار احمد ٹھاکر، نعت خواں سید فصیح الدین سہروردی، گلوکار و فنکار سمیت متعدد شخصیات کے لیے ستارۂ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
فنون کے شعبے میں اداکاروں، گلوکاروں، مصوروں، موسیقاروں، خطاطوں، دستکاروں اور دیگر فنکاروں کو بھی تمغۂ امتیاز کی سفارش کی گئی ہے۔
ادب
ادبی شعبے میں 29 شخصیات کے لیے اعزازات کی سفارش ہوئی ہے۔ اسد محمد خان کے لیے نشانِ امتیاز، اعجاز رحیم اور محمد خورشید الحسن رضوی کے لیے ہلالِ امتیاز جبکہ متعدد شعرا، ادیبوں، محققین اور ناول نگاروں کے لیے ستارۂ امتیاز اور تمغۂ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
کھیل
کھیلوں کے شعبے میں 9 شخصیات کے نام شامل ہیں۔ باکسنگ کوچ عطا محمد کاکڑ اور مارشل آرٹس و یوگا کے ماہر ڈاکٹر وسیم اے تائی کے لیے ستارۂ امتیاز جبکہ دیگر کھلاڑیوں، جن میں شوٹر کشمالہ طلعت، اسکواش کھلاڑی نور زمان، باکسر محمد وسیم اور کرکٹر صادق محمد شامل ہیں، کے لیے تمغۂ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
سماجی بہبود
سماجی خدمات کے شعبے میں ڈاکٹر مریم ملک اور نایاب علی کے لیے ستارۂ امتیاز جبکہ چار مذہبی و سماجی شخصیات کے لیے تمغۂ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔
فلاحی و مخیر خدمات
مخیر حضرات کے شعبے میں شناور خان کے لیے ستارہ امتیاز جبکہ عاطف اکرام شیخ، ابیہ اکرم اور ریاض حسین میمن کے لیے تمغۂ امتیاز کی سفارش ہوئی ہے۔
سرکاری خدمات
سرکاری خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ 67 شخصیات شامل ہیں۔ ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر احد خان چیمہ اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کے لیے نشانِ امتیاز تجویز کیا گیا ہے۔ دیگر اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے ہلالِ امتیاز، ستارہ امتیاز اور تمغۂ امتیاز کی سفارش کی گئی ہے۔
بہادری و سرکاری خدمات
بہادری اور سرکاری خدمات کے مشترکہ زمرے میں 95 شخصیات شامل ہیں۔ متعدد شہدا کے لیے بعد از وفات ستارۂ شجاعت تجویز کیا گیا ہے، جبکہ فوجی اہلکاروں، پولیس افسران، انٹیلی جنس اہلکاروں، ریسکیو اہلکاروں اور شہریوں کے لیے تمغۂ شجاعت اور تمغۂ امتیاز کی سفارش ہوئی ہے۔
پاکستان کے لیے خدمات، غیر ملکی شخصیات
پاکستان کے لیے خدمات انجام دینے والی غیر ملکی شخصیات میں متحدہ عرب امارات کی شیخہ فاطمہ بنت مبارک کے لیے نشانِ پاکستان تجویز کیا گیا ہے۔ سعودی عرب، روس، جاپان اور دیگر ممالک کی متعدد شخصیات کے لیے ہلالِ پاکستان، ستارۂ پاکستان، ہلالِ امتیاز، ہلالِ قائداعظم اور ستارۂ قائداعظم کی سفارش کی گئی ہے۔
پاکستانی تارکینِ وطن
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی مختلف سول ایوارڈز کی سفارش کی گئی ہے۔ مرحوم محمد اسد کے لیے بعد از وفات نشانِ امتیاز، جبکہ برطانیہ، چین اور سعودی عرب میں مقیم شخصیات کے لیے ہلالِ امتیاز، ستارۂ امتیاز اور تمغۂ امتیاز تجویز کیے گئے ہیں۔




