اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل)اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام کنونشن، ڈاکٹر مشتاق خان دوبارہ امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر وگلگت بلتستان منتخب ، حلف برداری تقریب ویوم پاکستان پرچم کشائی کا انعقاد کیا گیا ۔
نو منتخب امیر ڈاکٹر مشتاق خان نے امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر وگلگت بلتستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ۔ اس موقع پرسابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ باطل نظام اور اس کی محافظ قیادت عوامی مسائل حل کرانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جماعت اسلامی نے بے پناہ خدمات انجام دی ہیں۔ تعلیم ہو یا صحت، جماعت اسلامی کی خدمات بے مثال ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن کی شکل میں بھی عوامی خدمت کا کام جاری ہے۔ جماعت اسلامی کا سفر جاری رہے گا ۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کی پشت پر کھڑی ہے۔آج کے بعد ایک نئے عزم کے ساتھ کشمیر میں دعوتی سرگرمیوں کا آغاز کرنا ہے۔
ہم نے الیکشن ہارا ہے، ایمان نہیں ہارا۔ عزیمت، قربانیوں اور خدمت کی ایک تاریخ جماعت اسلامی کے ساتھ ہے اور ان شاء اللہ خدمت کا سفر ہر حال میں جاری رہے گا۔
سابق امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دھاندلی کے نتیجے میں جو حکومت آتی ہے وہ زیادہ دیر نہیں چلتی۔ کارکن اپنی صفوں کو درست کریں، سستی اور کاہلی کو ختم کریں، ہمارا کام ابھی شروع ہوا ہے۔ڈاکٹر محمد مشتاق خان: دھاندلی کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے
جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے جو اللہ کی دھرتی پر اللہ کے نظام کو غالب کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ دنیا کی نظر میں آپ الیکشن ہار گئے مگر اللہ کے نزدیک آپ الیکشن جیت چکے ہیں۔
ڈاکٹر مشتاق خان کا کہنا تھا کہ کہ وسطی باغ میں دھاندلی کے ثبوت موجود ہیں حقیقی ایم ایل اے بریگیڈئر محمد خان ہیں،حکومت آزاد کشمیرموجود ہ بحران کو فوری حل نکالے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے، اس کا مقصد محض ممبر اسمبلی بننا نہیں بلکہ اللہ کی دھرتی پر اللہ کے نظام کو غالب کرنے، بندگی۔۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی نظر میں جماعت اسلامی الیکشن ہاری لیکن اللہ کے نزدیک ہم کامیاب ہیں، کیونکہ ہم نے اپنا پیغام عوام تک پہنچایا ہے جماعت اسلامی نے الیکشن ہارا ہے، ایمان نہیں ہارا، خدمت اور جدوجہد کا سفر ہر حال میں جاری رہے گا۔۔
تقریب سے نومنتخب امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی، سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود، نومنتخب رکن اسمبلی ساجد اقبال عباسی اور قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی آزاد کشمیر قاضی شاہد حمید ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔
سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ آج تاریخی اور مبارک دن ہے، ایک طرف چودہ اگست یوم آزادی ہے اور دوسری طرف جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے نومنتخب امیر نے اپنی ذمہ داریوں کا حلف اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے جو اللہ کی دھرتی پر اللہ کے نظام کو غالب کرنے کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ نبی مہربان حضرت محمد ﷺ نے جب دعوت کا آغاز کیا تو اس وقت قومیت کا دور تھا۔
اگر آپ ﷺ قومیت کی بات کرتے تو سارے لوگ آپ کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہوجاتے، اگر روٹی اور کپڑے کی بات کرتے تو بھی لوگ آپ کے ساتھ چلتے، لیکن آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبے کی بات کی۔
سراج الحق نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کو ہر قسم کی پیشکش کی گئی، لیکن آپ ﷺ نے سب کچھ ٹھکرا دیا اور اپنی دعوت سے باز آنے سے انکار کردیا۔ آپ ﷺ نے واضح کردیا کہ اگر ایک ہاتھ پر چاند اور دوسرے ہاتھ پر سورج بھی رکھ دیا جائے تو بھی وہ اپنی دعوت سے باز نہیں آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بھی نبی مہربان ﷺ کا راستہ اختیار کیا۔ اقامت دین دراصل بندگی? رب کا راستہ ہے۔ جماعت اسلامی کا مقصد محض ممبر اسمبلی بننا نہیں بلکہ راہ حق میں مسلسل جدوجہد کرنا ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ دنیا کی نظر میں آپ الیکشن ہار گئے ہیں لیکن اللہ کے نزدیک آپ الیکشن جیت گئے ہیں، کیونکہ آپ نے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچادیا ہے۔ لوگ شاید آپ کی بات نہ سمجھ سکے، دوسری طرف حکومتیں اور وسائل تھے، لیکن جماعت اسلامی کے کارکنان نے دن رات محنت کرکے جماعت کا پیغام عوام تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بندر بانٹ کی سیاست ہے کہ گلگت بلتستان فلاں پارٹی کا ہے اور آزاد کشمیر فلاں پارٹی کا ہوگا، جبکہ پاکستان کے اندر بھی اسی طرح تقسیم جاری ہے۔ یہ کرپٹ، ظلم و جبر اور استحصالی نظام زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا۔
سراج الحق نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں جماعت اسلامی جیسی عظیم جماعت عطا کی۔ مشکلات جتنی بھی آئیں، سید علی گیلانی کے نعرے کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ، ہم نے یہاں اللہ کے نظام کو لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر، وزیراعظم اور حکومتوں کو بدلنا سیاسی عمل ہے، لیکن پاکستان کو برا بھلا نہیں کہنا۔ ہم سب کو مل کر پاکستان کی مضبوطی اور استحکام کے لیے کام کرنا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چوہدری یٰسین ان ایکشن،طارق سعید سمیت پیپلزپارٹی کے10 اہم عہدیدار فارغ
نومنتخب امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا کہ وہ تمام احباب کے شکر گزار ہیں جو ان کی دعوت پر تقریب میں شریک ہوئے۔ آج چودہ اگست یوم آزادی ہے اور پاکستان کے قیام کے وقت ایک ہی نعرہ تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ۔
اڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا کہ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کو اس وقت بہت سے چیلنجز درپیش ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابی مرحلہ کافی حد تک مکمل ہوچکا تاہم جماعت اسلامی اس مرحلے پر بوجوہ کامیاب نہیں ہوسکی۔ آ
زاد کشمیر میں اس وقت جو انتشار کی کیفیت ہے، اسے پیدا کرنے والے کون لوگ ہیں اور اس کے ذمہ دار کون ہیں، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔نومنتخب امیر نے مرحلہ وار انتخابات کے انعقاد کو پری پول رگنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سارے الیکشن دھاندلی زدہ ہیں۔
جون سے اگست تک آزاد خطے میں احتجاج جاری ہے، حکمرانوں اور مقتدر قوتوں کی بے حسی نے مسئلے کو مزید الجھا دیا ہے اور احتجاج طویل ہوتا جارہا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ان تمام حالات سے بے خبر نہیں۔ ہم گزشتہ دو سال سے اپنے طے,شدہ طریقہ کار کے مطابق چل رہے ہیں اور ظالم کو ظلم سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
جماعت اسلامی آزاد کشمیرکے امیرڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا کہ جب کہ جب تک دو کروڑ کشمیریوں کی گردنوں پر سر باقی ہیں تقسیم کشمیر کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
آزاد کشمیر میں ٹھپے لگا کر جعلی مینڈیٹ لیا گیا ہے، ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے۔ حلقہ وسطی باغ میں کھلے طور پر دھاندلی کی گئی اور ٹھپے لگائے گئے۔
جماعت اسلامی کے نامزد امیدوار بریگیڈیئر ڈاکٹر محمد خان جیت رہے تھے لیکن دھاندلی کرکے ان کے نتائج تبدیل کیے گئے۔
انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وسطی باغ میں دھاندلی کا فوری نوٹس لیا جائے اور انتخابی عمل کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی زدہ الیکشن کسی طور منظور نہیں، جماعت اسلامی ہر سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم تقسیم کشمیر کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ گلگت بلتستان ہو یا آزاد کشمیر، دونوں ایک وحدت ہیں۔ ہم چھ لاکھ سے زائد شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت اور قائدین حریت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کے علمبردار ادارے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیں۔ جماعت اسلامی میں ڈسپلن قائم کریں گے اور ریاست میں گورننس کے حالات بہتر بنانے کے لیے ایک جامع پلان ترتیب دے کر آگے بڑھیں گے۔عبدالرشید ترابی: جماعت اسلامی تحریک آزادی کشمیر کی امین اور پشتی بان ہے
سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ یہ اعزاز صرف جماعت اسلامی کو حاصل ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں دستور جماعت کے تحت ہر سطح پر انتخابات ہوتے ہیں اور جمہوری انداز میں قیادت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔




