مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد کشمیر میں حالیہ انتخابی نتائج کے بعد سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یٰسین نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر بننے والی ’’جعلی حکومت‘‘ کو چلنے نہیں دیں گے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن : حویلی الیکشن چیلنج،محسن عزیز کی درخواست سماعت کیلئے منظور
چوہدری یٰسین نے انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے الزامات عائد کئے اور کہا کہ اپوزیشن اپنے مؤقف پر قائم رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں انتخابی عمل اور نتائج سے متعلق اپنے تحفظات عوام کے سامنے لائیں گی۔
دوسری جانب آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی اپوزیشن کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
چوہدری یٰسین نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن بد نیتی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور انتخابی نتائج کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرنے میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن : حویلی الیکشن چیلنج،محسن عزیز کی درخواست سماعت کیلئے منظور
پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن حلقوں کی جانب سے احتجاجاً اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ بھی سامنے آیا ہے۔
چوہدری یٰسین کے سخت بیان ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ کے بعد آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نئی محاذ آرائی کا آغاز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی نتائج، مبینہ دھاندلی کے الزامات، الیکشن کمیشن کے اقدامات اور اپوزیشن کے احتجاجی لائحہ عمل کے باعث آزاد کشمیر میں آنے والے دنوں کے دوران سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا امکان ہے۔




