ایزی پیسہ کے سروس چارجز میں تبدیلی: صارفین کے لیے اہم اور تفصیلی معلومات سامنے آ گئیں

ایزی پیسہ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے اہم اور تفصیلی معلومات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق مختلف مالیاتی اور ڈیجیٹل سروسز استعمال کرتے وقت صارفین کو مقررہ سروس چارجز ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ایزی پیسہ کی جانب سے Schedule of Charges کے ذریعے مختلف خدمات کی فیس کی تفصیلی معلومات فراہم کی جاتی ہیں، اور صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کی لین دین کرنے سے پہلے متعلقہ سروس کے موجودہ چارجز کو لازمی چیک کر لیں۔

ایزی پیسہ کی دستیاب معلومات کے مطابق دوسرے بینک اکاؤنٹ میں Raast کے ذریعے رقم منتقل کرنے پر ٹرانزیکشن کی رقم کے حساب سے فیس مقرر کی گئی ہے۔ 1 روپے سے 1,000 روپے تک رقم بھیجنے پر 35 روپے، 1,001 سے 2,500 روپے تک 50 روپے، 2,501 سے 4,000 روپے تک 65 روپے، 4,001 سے 6,000 روپے تک 80 روپے، 6,001 سے 8,000 روپے تک 100 روپے اور 8,001 سے 10,000 روپے تک رقم منتقل کرنے پر 150 روپے سروس فیس درج ہے۔ واضح رہے کہ یہ تمام فیسیں ٹیکس سمیت بیان کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایزی پیسہ صارفین کیلئے ایک اور سہولت، اکاؤنٹ سے متعلق اہم تفصیلات آگئیں

بینک اور راست ٹرانسفر کی فیس کا مکمل شیڈول:

اسی طرح 10,001 سے 13,000 روپے تک رقم کی منتقلی پر 200 روپے اور 13,001 سے 16,000 روپے تک 250 روپے فیس لاگو ہوتی ہے۔ 16,001 سے 20,000 روپے تک 300 روپے، 20,001 سے 25,000 روپے تک 350 روپے، 25,001 سے 30,000 روپے تک 400 روپے، 30,001 سے 40,000 روپے تک 450 روپے جبکہ 40,001 سے 50,000 روپے تک کی رقم بھیجنے پر 500 روپے سروس فیس مقرر ہے۔

ایزی پیسہ سے دوسرے ایزی پیسہ اکاؤنٹ پر لاگو چارجز:

ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے دوسرے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں رقم بھیجنے والوں کے لیے بھی چارجز کا ایک مخصوص طریقہ کار موجود ہے۔ دستیاب سرکاری FAQ کے مطابق ایک ماہ میں پہلی 5 ٹرانزیکشنز بالکل مفت ہیں، جبکہ 6ویں سے 10ویں ٹرانزیکشن پر رقم کا 1 فیصد، ٹیکس سمیت چارج کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 11ویں اور اس کے بعد کی تمام ٹرانزیکشنز پر 2 فیصد، ٹیکس سمیت فیس عائد ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی صارف مفت کی جانے والی پانچ ٹرانزیکشنز استعمال کرنے کے بعد 10,000 روپے کی چھٹی سے دسویں ٹرانزیکشن کے درمیان رقم بھیجتا ہے، تو ایک فیصد کے حساب سے 100 روپے چارج بنتا ہے، جبکہ 11ویں یا اس کے بعد 10,000 روپے کی ٹرانزیکشن پر دو فیصد کے حساب سے 200 روپے فیس لاگو ہو سکتی ہے۔

شناختی کارڈ (CNIC) پر رقم بھیجنے کے چارجز:

ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے CNIC کے ذریعے رقم بھیجنے پر بھی منتقل کی جانے والی رقم کے حساب سے مختلف فیسیں مقرر کی گئی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق 1 سے 1,000 روپے تک رقم بھیجنے پر 35 روپے، 1,001 سے 2,500 روپے تک 50 روپے، 2,001 سے 4,000 روپے تک 65 روپے، 4,001 سے 6,000 روپے تک 80 روپے، 6,001 سے 8,000 روپے تک 100 روپے اور 8,001 سے 10,000 روپے تک 150 روپے فیس درج ہے۔

اسی شیڈول کے مطابق 10,001 سے 13,000 روپے تک CNIC ٹرانسفر پر 200 روپے، 13,001 سے 16,000 روپے تک 250 روپے، 16,001 سے 20,000 روپے تک 300 روپے، 20,001 سے 25,000 روپے تک 350 روپے، 25,001 سے 30,000 روپے تک 400 روپے، 30,001 سے 40,000 روپے تک 450 روپے جبکہ 40,001 سے 50,000 روپے تک رقم بھیجنے پر 500 روپے سروس فیس درج ہے۔

سہ ماہی نظرثانی اور کیش نکلوانے کے قوانین:

ایزی پیسہ کے مطابق زیادہ تر عام ٹرانزیکشنز مفت بھی ہو سکتی ہیں، تاہم بعض مخصوص خدمات پر فیس عائد ہوتی ہے۔ کمپنی کے FAQ کے مطابق چارجز میں ہر تین ماہ بعد نظرثانی کی جاتی ہے اور صارفین کو تازہ ترین Schedule of Charges دیکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

کیش نکلوانے کے حوالے سے بھی صارفین کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ایزی پیسہ کے FAQ میں موبائل اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے کے لیے ٹرانزیکشن رقم کا 1.75 فیصد، ٹیکس سمیت چارج درج کیا گیا ہے، جبکہ ایزی پیسہ ATM کارڈ استعمال کرنے پر ماہانہ یا سالانہ فیس نہ ہونے کی بات بھی درج ہے۔

مثال کے طور پر اگر صارف 10,000 روپے کیش نکلوانا چاہتا ہے تو 1.75 فیصد کے حساب سے چارج تقریباً 175 روپے بنتا ہے، جبکہ 20,000 روپے نکلوانے پر تقریباً 350 روپے چارج بنتا ہے۔

صارفین کے لیے اہم احتیاطی تدابیر اور ہدایات:

صارفین کے لیے اہم بات یہ ہے کہ ستمبر تک کسی بھی سروس کو استعمال کرنے سے پہلے اس کی موجودہ فیس ضرور چیک کی جائے، کیونکہ ایزی پیسہ کے مطابق چارجز میں سہ ماہی بنیاد پر نظرثانی ہو سکتی ہے۔ کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ پر Schedule of Charges کا باقاعدہ سیکشن موجود ہے، جہاں برانچ لیس بینکنگ اور ریٹیل بینکنگ کے چارجز الگ الگ فراہم کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل والٹ استعمال کرنے والے صارفین کو صرف بھیجی جانے والی رقم نہیں بلکہ سروس فیس اور ٹیکس سمیت مجموعی لاگت دیکھنی چاہیے۔ خاص طور پر بار بار رقم منتقل کرنے والے صارفین کے لیے معمولی فیس بھی مہینے کے اختتام پر ایک قابلِ ذکر رقم بن سکتی ہے۔

صارفین کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ ہر ٹرانزیکشن کے بعد رسید یا SMS محفوظ رکھیں، کسی غیر متعلقہ شخص کو OTP، PIN یا MPIN فراہم نہ کریں اور کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشن کی صورت میں فوری طور پر ایزی پیسہ کی آفیشل ہیلپ لائن یا شکایتی نظام سے رابطہ قائم کریں۔

یوں ستمبر تک ایزی پیسہ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ رقم بھیجنے، CNIC ٹرانسفر، بینک ٹرانسفر یا کیش نکلوانے سے پہلے متعلقہ سروس کے تازہ چارجز لازمی دیکھیں تاکہ ٹرانزیکشن کے وقت اضافی رقم کٹنے پر کسی بھی قسم کی پریشانی یا حیرانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔