ملک بھر میں یوم آزادی کی تیاریاں عروج پر ہیں اور اسے قومی جذبے سے منانے میں چند ہی ایام باقی رہ گئے ہیں، تاہم 14 اگست کے موقع پر مری جانے کے خواہشمند سیاحوں کے لیے بڑی اور اہم خبر سامنے آئی ہے۔ مری کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ضلع بھر میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کی خاطر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
ملک بھر میں 14 اگست یعنی یوم آزادی کا تہوار انتہائی جوش و خروش اور قومی جذبے کے ساتھ منانے کے لیے کچھ ہی روز باقی رہ گئے ہیں۔ اس قومی موقع پر جہاں ملک بھر سے لوگ مختلف تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں، وہیں ملکہ کوہسار مری جانے کی خواہش رکھنے والے سیاحوں کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایک انتہائی اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس کا مقصد نظم و ضبط قائم رکھنا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا اہم فیصلہ اور دفعہ 144 کا نفاذ:
مری کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ رسمی اعلامیے اور نوٹیفکیشن کے مطابق، یومِ آزادی کے موقع پر پورے ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی غرض سے دفعہ 144 نافذ کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: مکہ دفاعی معاہدے کی خوشی میں آزاد کشمیر بھر میں سہہ روزہ جشن تقریبات اختتام پذیر
دفعہ 144 کی مدت اور تاریخ:
نوٹیفکیشن میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق مری کے ضلع بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ 16 اگست 2026ء تک عمل میں رہے گا۔ اس مقررہ مدت کے دوران ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عائد کی گئی تمام تر پابندیوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ یوم آزادی پر پرامن ماحول میسر آ سکے۔
مال روڈ اور جی پی او چوک کے لیے خصوصاً ہدایات:
ضلعی انتظامیہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق مری کے انتہائی اہم اور مرکزی مقامات کے حوالے سے بھی خصوصی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت اس نفاذ کی مدت کے دوران مری کے مشہورِ زمانہ مال روڈ اور جی پی او چوک میں صرف فیملیز کو ہی آنے کی اجازت دی جائے گی۔
سیاحوں کے لیے تنبیہ اور انتظامیہ کی ہدایت:
14 اگست کے موقع پر مری کی سیر کا پروگرام بنانے والے تمام سیاحوں کو ہوشیار اور مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ سفر سے قبل ان احکامات کو مدنظر رکھیں۔ انتظامیہ کا مقصد امن و امان کے قیام کو یقینی بناتے ہوئے فیملیز کو بہتر اور پرامن ماحول فراہم کرنا ہے۔




