پیپلز پارٹی

انتخابات کے تیسرے مرحلے میں جھٹکا لگنے پر لیگی قیادت خاموش کیوں ہے؟

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ مکمل ہوگیا ، باغ اور حویلی کی 4نشستوں میں مسلم لیگ ن کو ایک نشست پر برتری حاصل ہے جبکہ پیپلزپارٹی 2 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

مسلم لیگ(ن) کو بڑا جھٹکا لگا ہے اور وسطی باغ سے مشتاق منہاس پیپلزپارٹی کے ضیاء قمر کے ہاتھوں شکست کھا گئے ہیں، اسی طرح حویلی سے مسلم لیگ ن کے مضبوط امیدوا ر محسن عزیز کو فیصل ممتاز راٹھور کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر انتخابات، پی پی کے فیصل راٹھور، ضیاء قمر کامیاب،ن لیگ کےمیر اکبر کو برتری، سردار عتیق کو شکست

مسلم لیگ ن کے کارکنان نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئےکہا کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں پیپلز پارٹی نے سر عام دھاندلی کی ہے، محسن عزیز اپنی سیٹ جیت چکے تھے لیکن ان کو دھاندلے کے ذریعے ہرایا گیا۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ وسطی باغ میں بھی مشتاق منہاس کی پوزیشن مضبوط تھی لیکن پیپلز پارٹی نے دھاندلی سے انہیں ہرایا

حویلی میں انتخابی نتائج کے بعد ن لیگی کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر دھرنا دیدیا ہےدوسری جانب اس ساری صورتحال میں مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت کی جانب سے خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے چونکہ پیپلز پارٹی پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ(ن) نے پر دھاندلی کا الزام لگاتی آئی ہے، ایک مرحلے پر پی پی قیادت نے تیسرے مرحلے کے انتخابات کے بائیکاٹ کا عندیہ بھی دیا تھا۔

انتخابات کے تیسرے مرحلے میں ن لیگ کےمضبوط امیدوارو ں کو شکست کا سامنا ہے اور اس موقع پر مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کا مکمل خاموشی اختیار کرنے سے کئی سوالات اٹھ گئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ دونوں سیٹیں ملنے سے اب پی پی پہلے دو مراحل میں لگنے والے جھٹکے بھول جائیگی کیونکہ جیالا ضیاء قمر اور وزیراعظم فیصل راٹھور جیت چکے ہیں۔

دوسری طرف مسلم لیگ( ن) کی مرکزی قیادت کی خاموشی سے یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کیلئے سادہ اکثریت مل چکی ہے تو پی پی کو بھی راضی کر لیا جائے اور سیاسی ماحول میں بہتری لائی جائے لیکن لیگی کارکن اس پر سخت برہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جعلی بیلٹ پیپرز استعمال ہوئے،ری پولنگ کرائیں گے، مشتاق منہاس

تجریہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ(ن)کی قیادت نے پہلے دو مراحل کے انتخابات کو شفاف قرار دیا ہے لہذا اب وہ تیسرے مرحلےمیں دھاندلی کا الزامات بھی نہیں لگا سکتی ہےاور یوںان سیٹوں کی قربانی دی جائیگی۔ پی پی قیادت بھی نتائج پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

آزادکشمیرمیں اب تک 38نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں ، مسلم لیگ(ن)24نشستوں کیساتھ پہلے، پیپلزپارٹی 12نشستوں کیساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ عوامی دست وبازو کے امیدوار ساجد عباسی بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ شرقی باغ میں ن لیگی امیدوار کو برتری حاصل ہے مگر 12سٹیشنزپر دوبارہ پولنگ ہونی ہے۔