چوہدری یاسین

آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت چلنے والی نہیں ، چوہدری یاسین

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین نے الزام عائد کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو زبردستی کامیاب کرایا جا رہا ہے جبکہ متنازع حلقوں میں شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب میں سابق وزیر صحت جاوید بڈھانوی اور ارشد صہیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری یاسین نے کہا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا، تاہم پیپلز پارٹی نے پہلے دن سے ہی مرحلہ وار انتخابات کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی مرضی سے انتخابات کا انعقاد کیا ۔ ان کے بقول موجودہ الیکشن کمشنر کے بھی مخصوص مقاصد ہیں اور انتخابات کے عمل نے 2016ء کے انتخابات کی یاد تازہ کر دی ہے۔

چوہدری یاسین نے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 9 میں منظم دھاندلی کے بجائے ’’دھاندلا‘‘ کیا جا رہا ہے اور مسلم لیگ (ن) کو زبردستی کامیاب کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر نے مزید کہا کہ رانا ثناء اللہ نے کئی ماہ قبل ہی مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کا اعلان کر دیا تھا۔ ان کے مطابق ن لیگ نے دھاندلی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن حلقوں میں انتخابات کے حوالے سے اعتراضات اور تحفظات سامنے آئے ہیں، وہاں شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آن لائن اسٹور پر 75 کروڑ روپے کے جعلی آرڈرز دے کر منسوخ کرنے والی جاپانی خاتون گرفتار

چوہدری یاسین کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی کمیٹی نے 80 فیصد سے زائد پولنگ والے حلقوں کی تحقیقات پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم بعد میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی۔

چوہدری یاسین نے کہا کہ انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کا جواب شفاف تحقیقات کے ذریعے دیا جانا چاہیے تاکہ انتخابات کی ساکھ برقرار رہ سکے۔

اس موقع پر پیپلزپارٹی کے امیدوارجاوید بڈھانوی نے بھی اپنے حلقے نکیال میں مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کیے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے حلقے کے تحصیلدار نے پری پولنگ دھاندلی کی اور مخالف جماعت سے مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے لیے۔

جاوید بڈھانوی کا کہنا تھا ان کے حلقے میں ایک قتل کے واقعے کی ایف آئی آر بھی ان کے خلاف درج کی گئی، جبکہ ان کی جماعت نے سوگ منایا لیکن مقتول سے وابستہ جماعت کے کارکنوں نے مبینہ طور پر ڈھول بجائے۔

انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں انتخابات تین مراحل میں کرانے کی ضرورت نہیں تھی، اگر دو مراحل میں بھی انتخابات کرا دیے جاتے تو بہتر ہوتا، میرپور ڈویژن میں پنجاب پولیس کے ذریعے ن لیگ نے نو نشستیں حاصل کیں۔

رہنما پیپلزپارٹی نے مزید الزام عائد کیا کہ ان کے حلقے کے اسسٹنٹ کمشنر کو انتخابات سے چند روز قبل تبدیل کرایا گیا، جبکہ پولنگ کے دن انہیں علم نہیں تھا کہ پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا ہے، ان کے مطابق اس اضافی ایک گھنٹے کے دوران ن لیگ نے دھاندلی کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات: تیسرا مرحلہ کل، باغ اور حویلی میں کاٹنے کا مقابلہ متوقع

آخر میں پی پی پی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ آزادکشمیر کے انتخابات سے متعلق تمام تحفظات اور مبینہ بے ضابطگیوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔