وادی نیلم میں انتخابات کا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے کے بعد تمام تجارتی مراکز کی رونقیں بحال ہو چکی ہیں، جبکہ نیلم اور مظفرآباد کے بازار بھرپور طریقے سے کھلے ہوئے ہیں۔ اٹہمقام سے لے کر مظفرآباد تک لوگوں کی آمدورفت جاری ہے، ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چل رہی ہے اور کسی قسم کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔
انتخابی نتائج کے مطابق بالائی نیلم سے صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ پی پی پی کے امیدوار میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ نے 13000 سے زائد ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس جو ان دونوں شخصیات کے مدمقابل تھے، 3100 کے لگ بھگ ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔
زیریں نیلم کی نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ نے اکثریت حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے مدمقابل شاہ غلام قادر نے 15000 سے کچھ زائد ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ میاں عبدالوحید 2000 سے کچھ زائد کی لیڈ سے کامیاب ہوئے۔ اسی نشست پر استحکام پاکستان پارٹی کے نوجوان رہنما ثقلین فدا کاظمی نے 5000 کا فیگر عبور کیا ہے۔ تمام تر حالات پرامن تھے لیکن اس دوران کالعدم ایکشن کمیٹی کے ایک جتھے نے حالات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، جسے نیلم پولیس اور انتظامیہ نے بروقت کنٹرول کر لیا اور حالات پر قابو پا لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزادکشمیر:شاہ غلام قادر کا نام بطور مضبوط امیدوار سامنے آگیا
امن و امان کی صورتحال اور انتظامی اقدامات:
اس وقت وادی نیلم سے کالعدم ایکشن کمیٹی کا وجود ختم ہو چکا ہے، تاہم اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان ڈنڈے لے کر لوگوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خود کو کالعدم ایکشن کمیٹی کا کارکن کہتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو اس جتھے کو کنٹرول کرنا چاہیے۔ الیکشن کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نئی حکومت بن چکی ہے جس کے عزائم نیک ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ نئی حکومت کالعدم گروپ سے بات چیت کرنے کے لیے بھی تیار ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی اداروں، پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بات کرنا مکمل طور پر چھوڑ دے۔
حکومت سازی، مذاکرات اور عوامی اپیل:
موجودہ صورتحال کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہو چکی ہے، اور اگر راولا کوٹ میں بروقت الیکشن ہو جاتے تو وہاں سے بھی انہیں مزید سیٹیں مل سکتی تھیں۔ نیلم ویلی کے لوگوں کی عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل ہے کہ وہ منتشر ہو جائیں، کیونکہ ان کا ہلہ گلہ کرنا آزاد کشمیر اور حکومتِ پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں دے رہا، بلکہ اس کا براہِ راست فائدہ بارڈر پار بیٹھا ہمارا ازلی دشمن اٹھا سکتا ہے اور اس انتشار سے آزاد کشمیر کو صرف نقصان ہی پہنچے گا۔ حکومت کو ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا علم ہے جو صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے، جس کے لیے حکومت نے پہلے بھی بات چیت کی تھی اور اب بھی تیار ہو سکتی ہے۔




