نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ(این ڈی ایم اے) کی جانب سے دریاؤں اور برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری ۔
این ڈی ایم اے کے مطابق، ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، لاہور سمیت پنجاب کے 7 بڑے شہروں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے باغ اور کوٹلی میں اچانک سیلاب کا خدشہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مکہ دفاعی معاہدہ، بھارت بھی پاکستان کی اسٹریٹجک پالیسی کا معترف
این ڈی ایم اے نے ڈیموں میں پانی کے ذخیرے کی موجودہ صورتحال بھی جاری کردی۔ تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 97.94 فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ پانی کی سطح 1548 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 95.98 فیصد تھا۔
رپورٹ کے مطابق منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 62.99 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 62.80 فیصد تھی۔این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں وسائل اور ریسکیو ٹیمیں پیشگی منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیلابی نالوں، دریاؤں اور زیرِ آب سڑکوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، جبکہ سیاح اور مسافر ندی نالوں اور دریاؤں کے کناروں سے دور رہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ : پاکستانی ٹیم نے ایک طلائی اور دو چاندی کے تمغے جیت لئے
این ڈی ایم اے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، اس لیے شدید بارش یا سیلابی وارننگ کی صورت میں غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ تیز بہاؤ والے پانی کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور کرنا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ مون سون کے دوران برساتی نالوں میں پانی کی سطح اچانک خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔




