کینیڈا میں ملازمتوں کی بھرمار :بیروزگاری کم ترین سطح پرآگئی

اوٹاوا : کینیڈا میں روزگار کے مواقعوں میں غیرمعمولی اضافہ سامنے آیا ہے، تازہ ترین رپورٹ میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ 2 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا کی معیشت نے ماہ جولائی میں توقعات سے کہیں زیادہ نئی ملازمتیں پیدا کردیں، جس کے بعد ملک میں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر تقریباً دو سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک ترکی سعودی عرب دفاعی معاہدہ، شاہ نعمت اللہ ولی کی 600 سال پرانی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی محصولات اور عالمی کشیدگی کے باوجود کینیڈین معیشت دباؤ کا بخوبی مقابلہ کر رہی ہے۔

ادارہ شماریات کے مطابق جولائی میں ملک میں 75 ہزار 100 نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جبکہ رائٹرز کے سروے میں ماہرین نے صرف 16 ہزار 500 نئی ملازمتوں کی توقع ظاہر کی تھی۔

روزگار میں اضافے کے نتیجے میں بے روزگاری کی شرح مسلسل تیسرے ماہ کم ہوئی ہے اور جون کی 6.5 فیصد شرح سے گھٹ کر جولائی میں 6.4 فیصد رہ گئی۔ یہ شرح جولائی 2024 کے بعد کینیڈا میں بے روزگاری کی کم ترین سطح ہے۔

جولائی میں کل وقتی ملازمتوں میں 38 ہزار 600 جبکہ جز وقتی ملازمتوں میں 36 ہزار 600 کا اضافہ ہوا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:دفاعی معاہدہ خوشحال مستقبل کا ضامن ، ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا، دفتر خارجہ

نئی ملازمتوں کا بڑا حصہ نجی شعبے میں پیدا ہوا، جہاں ہول سیل اور ریٹیل تجارت، مالیاتی و انشورنس خدمات، جبکہ پیشہ ورانہ اور سائنسی خدمات کے شعبوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔

اعداد و شمار کے مطابق مستقل ملازمین کی اوسط فی گھنٹہ اجرت میں جولائی کے دوران سالانہ بنیاد پر 3 فیصد اضافہ ہوا، جو جون میں 3.7 فیصد تھا۔

یہ فروری 2022 کے بعد اجرتوں میں اضافے کی کم ترین شرح ہے، جب یہ اضافہ 2.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اجرتوں میں اضافے کی رفتار میں کمی افراطِ زر کے دباؤ کے حوالے سے مرکزی بینک کے لیے ایک اہم اشارہ ہوسکتی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جولائی میں روزگار کے اعداد و شمار اس بات کا مزید ثبوت ہیں کہ سال کے ابتدائی کمزور آغاز کے بعد کینیڈین معیشت رفتار پکڑ رہی ہے۔

بینک آف کینیڈا نے 15 جولائی کو کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود کینیڈین معیشت ان چیلنجز سے بہتر انداز میں نمٹ رہی ہے۔