مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا بڑھتا ہوا اثر ورسوخ بھارت کیلئے اچھی خبر نہیں، سابق بھارتی سفیر کا اعتراف

نئی دہلی(کشمیر ڈیجیٹل) سابق بھارتی مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ اور سابق سفارتکار ٹی ایس تیرومورتی نے پاکستان ،سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدے پر بڑا اعتراف سامنے آگیا ۔

سابق بھارتی سفیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران جنگ کے آغاز کے بعد 10 مارچ کو شائع اپنے مضمون میں پاکستان کے اثرورسوخ کے حوالے سے بڑی پیشگوئی کی تھی

مزید یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا بڑھتا ہوا اثر ورسوخ بھارت کیلئے اچھی خبر نہیں، سابق بھارتی سفیر کا اعتراف

سابق سفیر کا کہناتھا کہ میں نے پیشگوئی کی تھی کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان خطے میں بڑھتے ہوئے خلا سے فائدہ اٹھائیں گے اور ان کا علاقائی اثر و رسوخ مزید بڑھے گا۔

ٹی ایس تیرومورتی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ان کے بقول اب ان کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جو بھارت کے لیے خوش آئند خبر نہیں۔

ایک بھارتی دفاعی ماہر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نےمشترکہ دفاع کا اعلان کر دیا۔

مشرقِ وسطیٰ کی پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں بین الاقوامی امور کے ماہر اور سابق بھارتی سفیر نے خطے کی بدلتی جیو پولیٹیکل صورتحال پر اہم اشارے دیدیئے ۔

معروف بھارتی روزنامہ دی ہندومیں شائع ہونے والے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے سابق بھارتی سفیر نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ بحران کے نتیجے میں ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کا علاقائی نقش مزید نمایاں ہو کر ابھر رہا ہے، جو بھارت کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن:10اگست کو حویلی، باغ میں عام تعطیل کا اعلان،نوٹیفکیشن جاری

سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں زیرِ بحث آنے والے اس تجزیے کے مطابق، فروری کے اختتام پر ایران کے حالات میں کشیدگی کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ کا سیکیورٹی اور سفارتی ڈھانچہ تبدیل ہو رہا ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں جہاں پاکستان کے سفارتی محاذ پر الگ تھلگ پڑنے کی باتیں کی جا رہی تھیں، وہاں موجودہ علاقائی خلا کو پر کرنے کے لیے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے بعد ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کی سفارتی اہمیت اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خطے میں ان تینوں ممالک کی ابھرتی ہوئی پیش قدمی سے بھارت کی اسٹریٹجک جگہ محدود ہو سکتی ہے، جس کے باعث نیو دہلی کو مشرقِ وسطیٰ اور اپنے پڑوس میں نئے سفارتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔