عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو ایک بار پھر بڑھا دیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں 1.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 83.48 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی 85 سینٹ کا اضافہ ہوا اور یہ 78.84 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹ اور خطے میں بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے یہاں بحری آمد و رفت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے۔
حالیہ صورتحال اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔ تاجروں اور سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ معاہدے کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز سے معمول کے مطابق بحری آمد و رفت بحال ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران پر حملے روکنے کے ٹرمپ کے اعلان کا اثر، خام تیل چار ڈالر سے زائد فی بیرل سستا
تاہم صورتحال اس وقت مختلف رخ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ تہران کی جانب سے عمان کیساتھ مل کر ایک ایسی تجویز سامنے آنے کی اطلاعات ہیں جس کے تحت دشمن ممالک سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ تجویز میں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی بات بھی کی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج سے عالمی منڈیوں تک خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی ترسیل کیلئے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے پر کسی بھی قسم کی پابندی یا بحری آمد و رفت میں خلل سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا تیل بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں مزید بلند ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کار اب ایران، عمان اور خطے کی مجموعی صورتحال سے متعلق پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا آئندہ رجحان بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت معمول پر آتی ہے یا کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا، ایران کشیدگی میں عارضی نرمی، خام تیل کی قیمتیں نیچے آ گئیں
یوں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف جغرافیائی سیاسی صورتحال کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑی پیش رفت کے عالمی توانائی کی منڈی پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔




