باقر قالیباف

ایرانی اسپیکر اورچیف مذاکرات کار باقر قالیباف کا ٹرمپ کے بیانات پر ردِعمل، مذاکرات کی پیشکش

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ بڑے حملے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تاہم ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے۔

باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران دھمکیوں اور دباؤ سے مرعوب ہونے کے بجائے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ مذاکرات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بڑا حملہ ہونے والا ہے‘‘ جیسی باتوں سے ایران کی پوزیشن تبدیل نہیں ہوگی اور مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔

ایرانی اسپیکر نے ٹرمپ کے طرزِعمل کو ’’تھیٹر سفارتکاری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھونس، ٹوٹے ہوئے وعدوں اور جھوٹی خبروں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی پہلے ہی ناکام ہو چکی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا سے مذاکرات، ایران نے مثبت اشارے ملنے کی تصدیق کردی

انہوں نے کہا کہ بار بار دھمکیوں اور بیانات کے ذریعے سیاسی دباؤ پیدا کرنے کے بجائے حقائق کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، اگر امریکا واقعی کسی سفارتی حل کا خواہاں ہے تو اسے اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور مذاکرات کیلئے سنجیدہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران کو مزید ’’تھیٹر‘‘ یا نمائشی سفارت کاری کی ضرورت نہیں۔ موجودہ صورتحال میں فریقین کو حقیقت پسندانہ، سنجیدہ اور ذمہ دارانہ طرزِعمل اختیار کرنا ہوگا تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور مسائل کا سفارتی حل تلاش کیا جا سکے۔

ایرانی اسپیکر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال ایک بار پھر حساس ہو چکی ہے۔ تہران مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ دباؤ، دھمکیوں اور فوجی کارروائی کے بجائے باہمی احترام اور قابلِ اعتماد سفارتی عمل کے ذریعے تنازعات حل کیے جانے چاہئیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز بحالی میں بڑی پیشرفت، ایران ، عمان معاہدہ پر متفق

قالیباف کے بیان سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ایران مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کر رہا، تاہم تہران کسی بھی سفارتی عمل میں اپنے وعدوں کی پاسداری اور فریقین کی جانب سے سنجیدہ رویے کو بنیادی شرط سمجھتا ہے۔