ڈھاکا:بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے تقریباً دو برس کی جلاوطنی کے بعد وطن واپسی کے ارادے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ رواں سال دسمبر میں بنگلادیش واپس آنا چاہتی ہیں، تاہم واپسی کی حتمی تاریخ اور دیگر تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 78 سالہ شیخ حسینہ نے جنوبی ایشیا کے غیرملکی صحافیوں کے کلب کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ تقریب میں ان کے صاحبزادے سجیب واجد جوئے، عوامی لیگ کے سینئر رہنما اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافی بھی شریک تھے۔
اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وطن واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن ان کے بقول یہ خدشات انہیں اپنے عوام کے درمیان واپس جانے سے نہیں روک سکتے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے عوام کو مشکل حالات میں تنہا چھوڑ کر بیرون ملک مستقل قیام کا تصور بھی نہیں کر سکتیں اور وہ خود کو بنگلادیش کے عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی عدالت نے شیخ حسینہ واجد کو 21 سال قید کی سزا سنا دی
شیخ حسینہ نے اپنی جماعت عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جمہوری معاشرے میں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
اس موقع پر ان کے صاحبزادے سجیب واجد جوئے نے کہا کہ ان کا موجودہ عبوری حکومت کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی رابطہ نہیں ہے اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
واضح رہے کہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں شروع ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد سیاسی صورتحال میں بڑی تبدیلی آئی تھی، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ وزارتِ عظمیٰ سے الگ ہو گئی تھیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کیخلاف فیصلہ 17 نومبر کو سنایا جائے گا
بعد ازاں وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت روانہ ہو گئی تھیں، جہاں وہ گزشتہ تقریباً دو برس سے مقیم ہیں۔ ان کی متوقع واپسی کو بنگلادیش کی سیاست میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس پر سیاسی حلقوں اور عوام کی گہری نظر ہے۔




