مظفرآباد

سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے مظفرآباد میں بارش کا پانی گھروں میں داخل

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بارش کا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو گیا۔

نالیاں اور نکا سی آب کے راستے بند ہونے کے باعث بارش اور نالوں کا گندا پانی درجنوں مکانات اور دکانوں میں داخل ہو گیا، جس سے شہریوں کا لاکھوں روپے کا قیمتی سامان تباہ ہو گیا۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق شہر کے اہم علاقوں بشمول اپر چھتر، لوئر چھتر، نالی بائنڈ، طارق آباد اور چھٹیاں میں نالے ابلنے کے باعث پانی سڑکوں پر ندی نالوں کی شکل اختیار کر گیا۔

سیوریج اور ڈرینیج کے باقاعدہ نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے بارش کا پانی تیزی سے نچلی سطح پر واقع گھروں، تہہ خانوں اور تجارتی مراکز میں داخل ہو گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مظفر آبادانتظامیہ کی نااہلی،چہلہ بانڈی پھر تالاب میں تبدیل ، پانی گھروں میں داخل

پانی کی آمد اتنی اچانک تھی کہ شہریوں کو اپنا سامان محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا موقع بھی نہ مل سکا، جس کی وجہ سے فرنیچر، برقی آلات اور راشن کا سامان بری طرح متاثر ہوا۔

متاثرہ شہریوں نے انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کیخلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال بارشوں کے موسم میں ان کا یہی حال ہوتا ہے لیکن بارہا اپیلوں کے باوجود انتظامیہ نے نالیوں کی صفائی یا سیوریج کے نئے پائپ بچھانے کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ تجاوزات اور نالیوں پر غیر قانونی تعمیرات نے پانی کا قدرتی بہاؤ روک دیا ہے، جس سے ہر بارش پر اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

عوامی حلقوں نے حکومت آزاد کشمیر اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مظفرآباد میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسیٔ آب کے جدید اور جامع منصوبے پر کام شروع کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے مالی یا جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بادل پھٹنے سے گھروں میں پانی داخل،مسجد ،سکول متعدد گھر متاثر

شہریوں نے متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد اور ریلیف فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔