وزیر صحت آزاد کشمیر کا دورۂ وادی لیپا، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی گفتگو

وادی لیپا کے دورے کے موقع پر وزیر صحت آزاد کشمیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کا کشمیر ڈیجیٹل کے لیے خصوصی انٹرویو لیا گیا، جس میں انہوں نے حادثات کی صورت میں معاوضے کی کیٹیگری، مظفرآباد، ہٹیاں بالا اور وادی لیپا کے حوالے سے اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

وزیر صحت نے اس دوران نئی حکومت کے سو روزہ پلان میں شعبۂ صحت اور وادی لیپا کے لیے شامل اقدامات، حکومت کی ترجیحات اور آنے والے میگا پروجیکٹس پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

وادی لیپا کے دورے کے دوران وزیر صحت آزاد کشمیر ڈاکٹر مصباح بشیر عباسی سے ہونے والی اس خصوصی گفتگو میں نئی حکومت کے قیام، 100 روزہ پلان اور وادی لیپا کے مسائل و ضروریات سمیت مختلف اہم امور پر بات چیت کی گئی۔ انٹرویو کے آغاز میں وزیر صحت نے بتایا کہ ان کے اچانک دورے کا بنیادی مقصد کپہ گلی میں شارٹ سرکٹ کے باعث جلنے والی تقریباً 46 دکانوں کے مقام کا وزٹ کرنا ہے، جہاں وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کی ہدایات کی روشنی میں وہ اپنی انتظامیہ اور ساتھیوں کے ہمراہ موجود ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے اور انہیں دکان کے مالک کو 50 ہزار روپے اور دکان یا کرائے پر کام کرنے والے کرائے دار کو بھی 50 ہزار روپے کے چیک موقع پر ہی فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں مظفرآباد جا کر دھکے نہ کھانے پڑیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جس طرح شاردہ بازار جلنے کے بعد حکومت نے تعمیر کر کے دیا تھا، اسی طرح اداروں کے ساتھ مل کر یہاں بھی ایک اچھا بازار تعمیر کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

صحت کے شعبے میں ترقی اور بی ایچ یو و ٹی ایچ یو کا قیام:

ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے صحت کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دوسرا مشن اپنے کارکنوں سے ملاقات کے ساتھ ساتھ رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ یو) اور بنیادی صحت کے مراکز (بی ایچ یو) کا دورہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیپا میں تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ یو) ہسپتال کے قیام کے لیے پہلے ہی رقم مختص کی جا چکی ہے اور ان کی پوری کوشش ہے کہ جلد از جلد لیپا میں ٹی ایچ یو ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا پرانا مشن یہ بھی تھا کہ آرمی کے ساتھ مل کر اسے ایک بہترین ہسپتال بنایا جائے، اور اس سلسلے میں اداروں سے بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ لیپا کے عوام کو بہترین صحت کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: وادی لیپا کے لیے بڑا ترقیاتی منصوبہ، بیس کلومیٹر سڑک پہلے سو روزہ پلان میں شامل ہونے کا امکان

ٹورزم کا فروغ اور روڈ انفراسٹرکچر:

ٹورزم کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ فرسٹ ہیلتھ اور ٹورزم موجودہ حکومت کی ٹاپ پرائیویٹیز میں شامل ہیں، اور وادی لیپا بھی ٹورزم کے اس فروغ میں شامل ہے۔ جب یہ پروجیکٹس سامنے آئیں گے تو عوام کو اندازہ ہوگا کہ لیپا میں سیاحت کے فروغ کے لیے پورا کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ روڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ماضی کا ذکر کیا جب لوگ ان کے مہران کار پر وادی لیپا آنے کے دعوے پر تنقید کرتے تھے لیکن وہ وعدہ پورا ہوا، اسی طرح اب انہوں نے یقین دلایا کہ روڈ کی بہتری کے لیے پچھلی حکومت کی جانب سے رکھے گئے فنڈز فراہم کیے جائیں گے اور اس روڈ کو بہتر بنایا جائے گا۔

حکومت کا سو روزہ پلان اور عوام کے نام پیغام:

نئی حکومت کے سو روزہ پلان پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی نے کہا کہ یہ ٹیم کام کرنے کے لیے آئی ہے اور اس کے پیچھے ہمارے قائد میاں محمد نواز شریف کا ویژن اور پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا مشن اور تجربہ شامل ہے۔ آزاد کشمیر میں بھی الیکٹرک بسیں، ہمت کارڈ پروگرام، کلینک آن ویلز اور پنجاب آئی ٹی بورڈ کی طرز پر ہیلتھ انفراسٹرکچر کے تمام پروجیکٹس لائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک نوجوان وزیراعظم کی قیادت میں یہ حکومت آئی ہے اور عوام کو اس میں واضح فرق محسوس ہوگا۔ آخر میں وادی لیپا اور پورے آزاد کشمیر کے عوام کے نام پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیپا کے عوام کے لیے ان کے دل میں خاص جگہ ہے کیونکہ وہ خود یہیں کا حصہ ہیں، اور اس دور حکومت میں بھی لیپا کا بھرپور خیال رکھا جائے گا۔