ٹرمپ

امریکی صدر کا ایران پر حملہ موخر کرنے کا اعلان ، حملے کی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہے ، ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کیخلاف فوجی کارروائی کیلئے مکمل طور پر تیار تھا تاہم ایران اور مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کی درخواست پر حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ایک ممکنہ معاہدے کے خدوخال طے پا گئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا ایران کے خلاف ایسی فوجی تیاری کی حالت میں ہے جس کی مثال دوسری جنگ عظیم کے بعد نہیں ملتی ، امریکی فوجی طاقت، صلاحیت اور تیاری انتہائی بلند سطح پر ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک نے امریکا سے درخواست کی کہ وہ حملہ روک دے کیونکہ مذاکرات کے ذریعے ایک معاہدے کی بنیاد تیار ہو چکی ہے۔

امریکی صدر کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر کھولنا شامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:غزہ میں حماس غیر مسلح،بورڈ آف پیس نے معاہدہ کرلیا، ٹرمپ کا اعلان

ٹرمپ نے کہا کہ عالمی معیشت اور خطے کے امن کے لیے آبنائے ہرمز کی آزادانہ آمدورفت انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کے مستقبل کے مفاد اور ایک کامیاب و خوشحال ایران کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے حملہ منسوخ کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم یہ فیصلہ اس شرط سے مشروط ہے کہ امریکا اور متعلقہ فریقین تیزی سے ایک معاہدے تک پہنچ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل بھی اس عزم میں ان کے ساتھ شامل ہے۔

امریکی صدر نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ تمام متعلقہ فریق فوری طور پر کام شروع کریں تاکہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چوتھی بار صدارتی الیکشن لڑنے کی خواہش کا اظہار

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ خطے میں فوجی سرگرمیوں اور سفارتی رابطوں پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔