پاکستان کے ایکویسٹرین ایتھلیٹ عثمان خان کا گھوڑا ایڈن ڈو ویریٹ المعروف میراج ایشین گیمز میں شرکت کے لیے بحفاظت جاپان پہنچ گیا ہے، تاہم گھوڑے کے ضروری سامان اور طبی کٹس کی ایک کھیپ کی ترسیل میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان ایشین گیمز میں پہلی مرتبہ اولمپک ڈسپلن ایونٹنگ میں شرکت کرے گا، جہاں عثمان خان اور ایڈن ڈو ویریٹ پاکستان کی نمائندگی کے فرائض سر انجام دیں گے۔ یاد رہے کہ یہ ایکویسٹرین مقابلے رواں ماہ کی 20 سے 23 تاریخ تک ٹوکیو کے جے آر اے ایکویسٹرین پارک میں منعقد ہوں گے۔
سامان کی ترسیل میں تاخیر اور ایجنٹس کا مؤقف:
ایڈن ڈو ویریٹ کی جاپان میں بحفاظت آمد کے باوجود پاکستان ٹیم کے کچھ انتہائی ضروری سامان کی بروقت ترسیل ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ گھوڑوں اور ایکویسٹرین سامان کو اولمپکس اور ایشین گیمز کے لیے منتقل کرنے کے ذمہ دار ایجنٹس کی جانب سے قومی فیڈریشنز کو آگاہ کیا گیا ہے کہ متعدد قومی اولمپک کمیٹیوں کا سامان مقررہ وقت پر متعلقہ مقام تک نہیں پہنچ سکا۔
ایجنٹس کے مطابق اصل بکنگ کے علاوہ مزید چار ہزار نو سو کلوگرام سامان لیج پہنچ گیا تھا، تاہم طیارے کے وزن کی مقررہ حد کے باعث تمام سامان ایک ہی پرواز میں منتقل نہیں کیا جا سکا۔ لیج پہنچنے کے بعد تمام سامان کو ایک مشترکہ کھیپ کا حصہ بنا دیا گیا، جس کے باعث کسی بھی مخصوص قومی اولمپک کمیٹی کا سامان الگ کرکے پرواز سے اتارنا ممکن نہیں تھا۔
پروازوں کا شیڈول اور کسٹمز کلیئرنس کے مراحل:
ایجنٹس کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سامان کی جاپان منتقلی میں تیزی لانے کے لیے فوری نوعیت کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ شیئر کیے گئے شیڈول کے مطابق سولہ ستمبر کی پرواز میں انیس پارسل دوحہ سے ناریتا پہنچنے تھے، جبکہ مزید چونتیس پارسل سترہ ستمبر کی پرواز کے ذریعے جاپان پہنچنے ہیں۔
ایجنٹس نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مشترکہ کھیپ ائیرلائن کارگو کے پاس ہونے کے باعث اس وقت یہ تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے کہ کس قومی اولمپک کمیٹی کا مخصوص سامان کس پرواز کے ذریعے پہنچ رہا ہے۔ جاپان پہنچنے کے بعد تمام سامان کسٹمز کلیئرنس کے مرحلے سے گزرے گا، جس کے بعد اسے ایکویسٹرین مقابلوں کے مقام تک منتقل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی اے طلبی، کرکٹر محمد رضوان نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا
عثمان خان کی جانب سے وضاحت اور تیاریوں کو لاحق مشکلات:
پاکستانی سوار عثمان خان نے سامان کی اس صورتحال پر فوری طور پر وضاحت طلب کرتے ہوئے متعلقہ ایجنٹس سے دریافت کیا ہے کہ اب تک کن قومی اولمپک کمیٹیوں کا سامان پہنچ چکا ہے، اور پاکستان کا سامان کب تک باقاعدہ طور پر پہنچایا جائے گا۔
عثمان خان نے اس حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے مجموعی طور پر دو سو کلوگرام سامان کی گنجائش خریدی تھی، تاہم تیس کلوگرام سامان پہلے ہی کم کیا جا چکا ہے، جبکہ بیس کلوگرام خوراک اور کئی دیگر اشیا بھی سامان سے نکال دی گئی ہیں۔ عثمان خان نے متعلقہ حکام کو بتایا کہ اگر پاکستان کا سامان سولہ ستمبر کو پہنچ جاتا تو ٹیم اسی رات اپنا تربیتی سیشن منعقد کر سکتی تھی، تاہم اگر سامان سترہ ستمبر تک پہنچتا ہے تو ایشین گیمز سے قبل انتہائی اہم تیاری کے مرحلے میں پاکستان کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
گھوڑے کا طویل قرنطینہ اور مقابلوں کا شیڈول:
دوسری جانب ایڈن ڈو ویریٹ نے جاپان روانگی سے قبل اپنا طویل قرنطینہ کامیابی سے مکمل کیا۔ اس گھوڑے نے فرانس میں ساٹھ روزہ منظور شدہ قرنطینہ کے بعد جرمنی میں دس روزہ پری ایکسپورٹ قرنطینہ مکمل کیا، یوں اس طرح مجموعی طور پر ستر روز قرنطینہ میں گزارے۔ تمام تر طبی ٹیسٹ کے نتائج منفی آنے کے بعد ہی گھوڑے کو جاپان روانگی کی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم کی ایشین گیمز مہم ایونٹنگ میں ملک کی یہ ایک تاریخی شرکت ہوگی۔ اس ایونٹنگ میں گھڑ سواری کے تین اہم مراحل شامل ہوتے ہیں، جن میں ڈریسیج، کراس کنٹری اور شو جمپنگ شامل ہیں۔ ان مقابلوں کا باقاعدہ آغاز بیس ستمبر کو گھوڑوں کے طبی معائنے سے ہوگا، جبکہ ڈریسیج اکیس ستمبر، کراس کنٹری بائیس ستمبر اور شو جمپنگ تئیس ستمبر کو منعقد ہوگی۔




