چناب، جہلم اور سندھ کے خطرناک پانی میں اتر کر لوگوں کی جان بچانے والے شیخ حمزہ کون ہیں؟

جموں، کشمیر یا لداخ میں کہیں بھی ڈوبنے کا ایسا کوئی بھی دردناک واقعہ پیش آئے تو لوگ سب سے پہلا فون وادی چناب کے ضلع ڈوڈہ سے تعلق رکھنے والے غوطہ خور شیخ حمزہ کو ہی کرتے ہیں۔ اگرچہ محکمہ انسداد بحران کے اہلکار اور ٹیمیں بھی ایسے حادثات کے دوران فوری طور پر سرگرم ہو جاتی ہیں، لیکن شیخ حمزہ کی بے مثال مہارت اور تجربے سے واقف افراد کسی بھی ناگہانی حادثے کے بعد ان سے ہی رابطہ کرتے ہیں اور انہیں مدد کے لیے بلاتے ہیں۔

سرینگر کے نواحی علاقے پانتھہ چوک کے قریب درائے جہلم میں کود کر اپنی جان دینے والے ایک نوجوان کی لاش کی تلاش کے دوران شیخ حمزہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ برسوں کے دوران وہ 800 سے زیادہ لاشیں پانی سے نکال چکے ہیں اور 250 سے زائد افراد کی قیمتی جانیں بچا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میں نے کبھی نہیں کہا کہ راولاکوٹ کے لوگ کشمیری نہیں ہیں: خواجہ آصف

بغیر کسی معاوضے کے انسانی خدمت کا جذبہ:

شیخ حمزہ کا تعلق ایک متوسط خاندان سے ہے اور انہیں نامساعد حالات کے باعث اپنی پڑھائی چھوڑ کر گھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزدوری کا سہارا لینا پڑا۔ اس کے باوجود وہ انسانیت کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

وہ بنا کسی جدید آلات کے اور کسی بھی اجرت یا معاوضے کے بغیر کئی کئی دنوں تک چناب، جہلم اور سندھ کے بپھرے ہوئے پانیوں میں مسلسل غوطہ زن رہتے ہیں اور اپنے اس مشن کو بلا کسی غرض کے سرانجام دیتے ہیں۔