پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا، حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں دھرنے کے شرکا سے واضح خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جب تک پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، احتجاج کا یہ سلسلہ ہر صورت جاری رہے گا اور حکومت کو اپنا یہ فیصلہ لازمی طور پر واپس لینا ہوگا۔

کراچی کے دھرنے کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ملک اس وقت ایک خاص ٹولے کے ہاتھوں مسلسل لوٹا جا رہا ہے، لیکن اگر ملک کے نوجوان بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے تو یہ عناصر عوام کے سامنے زیادہ دیر ٹک نہیں پائیں گے اور اپنی چپلیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے حکومت کو سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر پیٹرولیم لیوی اور بھتہ خوری کا خاتمہ نہ کیا گیا تو یہ جاری احتجاجی تحریک براہ راست حکومت کے گھیراؤ تک بھی جا سکتی ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل اور جلسوں کا شیڈول

حافظ نعیم الرحمان نے اپنے آئندہ کے سیاسی پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے روز بھی کراچی ہی میں موجود ہوں گے جہاں ایک تاریخی جلسہ منعقد کیا جائے گا، جبکہ اس سے اگلے روز لاہور میں ایک بہت بڑا جلسہ ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان بڑے اجتماعات کے بعد مردان اور پشاور میں بھی عوامی جلسے رکھے گئے ہیں، اور ان تمام مرحلوں کو مکمل کرنے کے بعد جماعت اسلامی ایک بار پھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا رخ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ، نوٹیفکیشن جاری

اسمارٹ لاک ڈاؤن کی مخالفت اور عیاشیوں میں کمی کا مطالبہ

امیر جماعت اسلامی نے اس موقع پر حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے فیصلے کو بھی سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایک نام نہاد اجلاس میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ مسلط کیا ہے، جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اپنی شاہانہ عیاشیاں کم کر دینی چاہئیں اور عوام کے ناتواں کندھوں پر تمام تر بوجھ لادنے کی ظالمانہ پالیسی کو فوراً ترک کرنا چاہیے۔

سودی نظام کا خاتمہ اور دیگر سیاسی جماعتوں پر تنقید

جماعت اسلامی کے امیر نے وزیراعظم شہباز شریف سے پرزور مطالبہ کیا کہ ملک سے سودی نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے کیونکہ یہ سود کی لعنت ہی ہے جو ہماری قومی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے۔ ان کے مطابق سودی نظام کے خاتمے سے ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو جلا ملے گی اور صنعتوں کا فروغ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید انتباہ کیا کہ اگر سود کے خلاف باقاعدہ تحریک کا آغاز کیا گیا تو حکومت کے لیے حالات کو سنبھالنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ آخر میں دیگر سیاسی جماعتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان تمام جماعتوں کی صفوں میں آٹا، چینی اور آئی پی پیز مافیا کے کارندے موجود ہیں، جبکہ صرف جماعت اسلامی ہی وہ واحد سیاسی قوت ہے جو سچے دل سے عوامی مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کر رہی ہے۔