لیبیا میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت پر مامور گارڈز نے پیداوار متاثر ہونے پر احتجاج کا راستہ اپناتے ہوئے خام تیل کی ایک اہم پائپ لائن کا والو بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اہم تنصیبات کی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔
لیبیا کے اندر تیل کی پیداوار متاثر ہونے کا سنجیدہ واقعہ پیش آیا ہے جس میں تیل انفرا اسٹرکچر کی حفاظت پر مامور پیٹرولیم فسیلیٹیز گارڈز نے احتجاجی قدم اٹھاتے ہوئے خام تیل کی ایک اہم پائپ لائن کا وال مکمل طور پر بند کر ڈالا ہے۔ اس احتجاجی اقدام کے فوراً بعد خام تیل کی اس اہم پائپ لائن کے بند ہونے کی وجہ سے دو اہم آئل فیلڈز اور ایک پمپنگ اسٹیشن کی تمام تر سرگرمیاں مکمل طور پر رک گئی ہیں، جو کہ ملکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا دھماکہ خیز اور تشویشناک موڑ ہے۔
نیشنل آئل کارپوریشن کا ردعمل اور گارڈز کے مطالبات
موجودہ بحران کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن نے باضابطہ طور پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خام تیل کی یہ سپلائی اسی طرح بند رہی تو وہ ملک بھر میں تیل کی مکمل بندش کا باقاعدہ اعلان کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف، پیٹرولیم فسیلیٹیز گارڈز نے سخت تنبیہ اور دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے تمام مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ مستقبل میں تیل کی پیداوار میں مزید نمایاں کمی لانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی، خام تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
پیٹرولیم فسیلیٹیز گارڈز کا بنیادی اور دیرینہ مطالبہ یہ ہے کہ انہیں مالی اور انتظامی طور پر فوری طور پر نیشنل آئل کارپوریشن کے مکمل ماتحت کر دیا جائے تاکہ ان کے انتظامی امور اور مالی معاملات کو بہتر بنایا جا سکے اور ان کے تحفظات کا تدارک ممکن ہو سکے۔
سعودی عرب کا یورپ کو خام تیل کی سپلائی روکنے کا فیصلہ
خطے میں جاری کشیدگی اور توانائی کے بحران کے ایک اور اہم واقعے کے تحت، دوسری جانب سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر عراقی ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملوں کے ناگزیر نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان خطرناک ڈرون حملوں کے فورا بعد، سعودی عرب نے یورپ کو کی جانے والی خام تیل کی سپلائی کو ہنگامی بنیادوں پر فی الحال مکمل طور پر روک دیا ہے، جس سے بین الاقوامی منڈیوں اور یورپی ممالک کو ہونے والی رسد پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔




