ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں مون سون ہوائیں داخل، شدید بارشوں کا امکان

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مون سون کی ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہونے کی توقع ہے۔ اس وقت ایک مغربی لہر بھی شمالی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے، جو یکم اگست سے ملک کے بیشتر بالائی اور وسطی حصوں کو مزید مضبوط اور متاثر کر سکتی ہے۔ اس نکھرتے موسمی نظام کے تحت ملک بھر کے تمام صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان کے اضلاع میں تیز آندھی، گرج چمک اور موسلا دھار بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آزاد کشمیر کے تمام اضلاع بشمول وادی نیلم، مظفر آباد، راولاکوٹ، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، سدھانوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں 05 اگست تک وقفے وقفے سے بارش اور بکھرے ہوئے مقامات پر موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔ اسی طرح پنجاب اور اسلام آباد/راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، سیالکوٹ، لاہور، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، خوشاب، میانوالی، لیہ، بھکر، نورپورتھل، سرگودھا، ساہیوال اور پاکپتن میں 29 جولائی سے 04 اگست تک آندھی اور بارشیں ہوں گی۔ جبکہ بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، خان پور، ملتان، وہاڑی، خانیوال، لودھراں، مظفر گڑھ، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں 03 اگست تک بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر ،بارشوں کی تباہ کاریاں، 3 افراد جاں بحق، 212 مکانات متاثر

صوبہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، بلوچستان اور سندھ کی صورتحال:

خیبرپختونخوا کے اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان، مالاکنڈ، نوشہرہ، چارسدہ، کرک، ٹانک، لکی مروت، صوابی، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، وزیرستان، مہمند، خیبر، اورکزئی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردان اور ہنگو میں 29 جولائی سے 05 اگست تک وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک متوقع ہے۔ علاوہ ازیں، گلگت بلتستان کے تمام علاقوں بشمول دیامیر، استور، غذر، سکردو، ہنزہ، گلگت، گھانچے اور شگر میں 28 جولائی (شام/رات) سے 06 اگست تک بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

بلوچستان کے مشرقی اور جنوبی حصوں جن میں ژوب، شیرانی، لورالائی، کوہلو، سبی، قلات، نصیر آباد، جھل مگسی، جعفرآباد، بارکھان، ڈیرہ بگٹی، خضدار، لسبیلہ، آواران، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں، میں 31 جولائی (شام/رات) سے 03 اگست تک بارشیں ہوں گی۔ سندھ کے اضلاع تھرپارکر، عمر کوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، حیدر آباد، کراچی، مٹیاری، جامشورو، شہید بینظیر آباد، گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، نوشہروفیروز اور ٹھٹھہ میں 31 جولائی (شام/رات) سے 02 اگست تک بارش اور گرج چمک کے امکانات ہیں۔

اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ:

محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 30 جولائی سے 04 اگست کے دوران اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، لاہور، ملتان اور فیصل آباد کے نشیبی علاقوں میں شدید شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خطرہ ہے۔ دوسری جانب سندھ کے علاقوں نواب شاہ، سکھر، شہید بینظیر آباد، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، سانگھڑ، خیرپور، مٹھی، میر پور خاص، عمر کوٹ، ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈو الہ یار میں 31 جولائی سے 02 اگست تک نشیبی علاقے زیر آب آسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: این ڈی ایم اے کا 5 اگست تک مون سون الرٹ، ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خدشہ

بالائی خیبرپختونخوا (دیر، چترال، سوات، کوہستان، بونیر، بٹگرام، مانسہرہ، ہری پور، ایبٹ آباد)، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں 30 جولائی سے 05 اگست تک لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔ مزید برآں، موسلا دھار بارشوں سے کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، ڈی جی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور بلوچستان کے شمال مشرقی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

کسانوں، سیاحوں اور انتظامیہ کے لیے ضروری ہدایات:

پیشین گوئی کی مدت کے دوران تیز ہواؤ‌ں، شدید آندھی اور آسمانی بجلی کے باعث سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں، بل بورڈز اور دیگر کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس لیے سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس دوران سفر کرتے وقت انتہائی محتاط رہیں۔

محکمہ موسمیات نے کسانوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ موسمی حالات کے مطابق اپنی فصلوں کی دیکھ بھال کی سرگرمیاں ترتیب دیں اور مویشیوں کے تحفظ کا انتظام کریں۔ تمام متعلقہ انتظامی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بارش کے دوران ہمہ وقت چوکس رہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال اور نقصان سے بچا جا سکے۔