سیاسی جماعتیں ملکی نظام ٹھیک کریں ورنہ کاکروچ اکھٹے ہوگئے تو سارا نظام الٹ دیں گے ،محسن نقوی

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وزیرداخلہ محسن نقوی نے پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ سیاسی جماعتیں ملک کا سیاسی نظام ٹھیک کریں ورنہ اگر یہ کاکروچ اکھٹے ہوگئے تو سارا نظام الٹ دیں گے ،نوجوانوں کو سہولیات چاہئیں جو ہم نہیں دے پاسکے ۔

وزیرداخلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمٹ میں سب نے مسائل بتائے اور ساتھ اس کا حل بھی بتایا،شہباز شریف 12 گھنٹے کے بجائے 18 گھنٹے بھی کام کریں یہ فائر فائٹنگ ہے کچھ بہتر نہیں ہوگا۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ حل صرف ایک ہےاس ملک میں مزید صوبے/انتظامی یونٹس بنانا ہوں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا،ملک کو نئے انتظامی یونٹس، میرٹ، مقامی سطح پر انصاف اور کاروباری برادری کو فیصلہ سازی میں مؤثر کردار دینے کی ضرورت ہے، ملک صرف وقتی اقدامات سے نہیں چل سکتا۔

اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ جمہوریت کے سب حامی ہیں، میں جمہوریت کا سب سے بڑا حامی ہوں لیکن جمہوریت کے اندر کوئی 4سے 5قسم کے نظام ہیں، خالی ایک نظام تو موجود نہیں ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے بنیادی مسائل کا حل محض وقتی اقدامات سے ممکن نہیں، بلکہ جمہوری نظام کے اندر جامع اصلاحات، نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک میں ایک ہی طرزِ حکمرانی جاری ہے، جس کے باعث عام شہری کو انصاف، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور تعلیمی بورڈ:فرسٹ اینڈ سیکنڈ ایئرامتحانات،دہم کے پریکٹیکل ملتوی

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی حمایت ضروری ہے، تاہم جمہوریت کے اندر بھی مختلف طرزِ حکمرانی موجود ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ ملکی نظام کو عوامی ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے۔

وفاقی وزیرداخلہ کامزید کہنا تھا کہ حل یہ ہے کہ آپ کو ایڈمنسٹریٹو یونٹس یعنی صوبے “اسے جو بھی نام دینا چاہیں ” اس تصور کو عوام کی سطح تک لے کر جانا ہوگا۔ جب تک یہ یونٹس قائم نہیں ہوں گے، اور اپنی اونرشپ نہیں لیں گے، اور ان میں سے نئی لیڈرشپ سامنے نہیں آئے گی، اس وقت تک ترقی نہیں ہو سکے گی

وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی نظام کو چلانے والے اور اس کی مالی معاونت کرنے والے افراد بھی اس تبدیلی کے ذمہ دار ہیں۔ اگر تمام اسٹیک ہولڈرز اصلاحات پر متفق ہو جائیں تو نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنے گھروں کے قریب انصاف، سرکاری خدمات اور مؤثر حکومتی رابطہ میسر آنا چاہیے، مگر موجودہ نظام یہ سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے اور مقامی قیادت کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو معمولی مالی امداد یا سہولتیں دینے کے بجائے انہیں میرٹ پر روزگار، کاروبار اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف انصاف، میرٹ اور باعزت روزگار چاہتے ہیں۔