عالمی فٹبال فیڈریشن (فیفا) نے ورلڈ کپ کے دوران اور سپین کے خلاف فائنل میچ میں شکست کے بعد ارجنٹینی کھلاڑیوں اور عملے کے نامناسب رویے پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کر دی ہے۔
گذشتہ ہفتے فیفا نے نیویارک سٹیڈیم میں فائنل سیٹی بجنے کے بعد پیش آنے والے سنگین واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک ڈسپلنری پراسیکیوٹر مقرر کیا تھا، جن میں ارجنٹینا کے متعدد کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف کے ارکان سپین کے کھلاڑیوں کے ساتھ جھگڑوں میں براہ راست ملوث پائے گئے تھے۔ 19 جولائی کو ایک صفر کی شکست کے بعد ارجنٹینا ٹیم اور اس کے معاون عملے کے ارکان سپین کے کھلاڑیوں کے ساتھ اس وقت جھگڑے میں ملوث دکھائی دیے تھے جب سپین کے کھلاڑی ورلڈ کپ میں تاریخی فتح کا جشن منا رہے تھے۔
کھلاڑیوں اور اسسٹنٹ کوچ پر عائد الزامات کی تفصیلات:
پراسیکیوٹر کی سفارش پر فیفا ارجنٹینا کے کھلاڑیوں ناہویل مولینا (جن پر دو الزامات ہیں) اور لیاندرو پاریدیس (جن پر تین الزامات ہیں) کے علاوہ اسسٹنٹ کوچ روبرتو آیالا (جن پر ایک الزام ہے) کے خلاف فیفا کے تادیبی ضابطے کے آرٹیکل 14 کے تحت مبینہ حملے کے الزام میں تحقیقات کرے گا۔ ناہویل مولینا، لیاندرو پاریدیس، تیاگو المادا اور اسسٹنٹ کوچ روبرتو آیالا سبھی بظاہر اس لڑائی میں شامل ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین کی جیت کے بعد ہنگامہ آرائی، ارجنٹائن کے لیونڈرو پریڈیس نے ایرک گارسیا کا گلا دبا دیا
غیر دوستانہ رویہ اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی:
ناہویل مولینا کو آرٹیکل 14 کے تحت مبینہ غیر دوستانہ رویے پر بھی تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے ساتھی کھلاڑی تیاگو المادا اور سپین کے مڈفیلڈر گاوی پر بھی اسی نوعیت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
فیفا ضابطہ اخلاق کے تحت متوقع سزائیں:
فیفا کے تادیبی ضابطے کے مطابق غیر دوستانہ رویے پر کھلاڑیوں اور ریفریوں کو کم از کم ایک میچ کی معطلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب، اگر تادیبی کارروائی کے دوران حملے کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اس صورت میں کم از کم تین میچوں کی معطلی کی سخت سزا دی جاتی ہے۔




