آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے بارش ،محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا

محکمہ موسمیات کے مطابق 5 اگست تک ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا ایک نیا اور طاقتور سلسلہ داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

منگل کی رات آزاد کشمیر، راولپنڈی اور اسلام آباد کے متعدد علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کریں گی، جبکہ 1 اگست سے مغربی ہواؤں کا ایک مضبوط سلسلہ بھی ملک کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ پیشگوئی کے مطابق کشمیر میں 5 اگست تک گرج چمک کے ساتھ وقتاً فوقتاً بارش کا امکان ہے، جبکہ کچھ مقامات پر تیز سے بہت تیز بارش کی بھی توقع ہے۔

پنجاب، اسلام آباد اور جنوبی پنجاب میں موسم کی صورتحال:

آزاد کشمیر، اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات اور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 4 اگست تک تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ شدید بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، ملتان، وہاڑی، خانیوال، لودھراں، مظفر گڑھ، کوٹ ادو، ڈیرا غازی خان اور راجن پور میں 31 جولائی سے 3 اگست کے دوران بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بارشوں کو نیا طاقتور سپیل ملک میں داخل،کتنے دن بادل برسیں گے؟ الرٹ جاری

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، بلوچستان اور سندھ کی پیشگوئی:

خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں 29 جولائی سے 5 اگست تک تیز ہواؤں، گرج چمک اور چند مقامات پر شدید بارش کا امکان ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں 29 جولائی سے 6 اگست تک معتدل سے شدید بارش کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں 31 جولائی کی رات سے 3 اگست تک بارش اور کچھ جگہوں پر شدید بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ سندھ کے مختلف اضلاع میں 31 جولائی سے 2 اگست تک گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈنگ کے خطرات:

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 30 جولائی سے 4 اگست کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں اربن فلڈنگ (شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال) کا خطرہ موجود ہے۔ علاوہ ازیں، 30 جولائی سے 5 اگست کے درمیان بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور شمال مشرقی بلوچستان کے پہاڑی ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ (طغیانی) کا بھی خدشہ ہے۔