ایران جنگ،امریکی فوجی قیادت تقسیم، حکمت عملی میں اختلاف سامنے آ گیا

ایران کے خلاف جنگ میں حکمت عملی اپنانے کے معاملے پر امریکی فوجی قیادت تقسیم ہوگئی۔

امریکی اخبار کے مطابق سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر چاہتے ہیں کہ ایران پر بڑے فضائی حملے کیے جائیں جو دو ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں تاہم جنرل کین اور وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ چاہتے ہیں کہ ائیرڈیفنس اسٹاک کو بچایا جائے ،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس معاملے پر سخت فیصلے کا سامنا ہے کہ جنگ کو کس قدر بڑھایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور یو اے ای کا تاریخی اقدام: پہلی مشترکہ اے آئی ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے حملوں کا سخت جواب دینے کی دھمکی دی تھی ۔

امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نے اردن میں فوجی اڈے پر سرپرائزڈ میزائل حملے کیے تاہم امریکی فوج نے منٹوں میں ایران سے فائر کیے جانے والے مزائل مار گرائے۔ایرانی حملوں کا انتہائی سخت جواب دیا جائیگا۔

اسلحہ ذخائر میں کمی کی خبر درست نکلی

متعدد بین الاقوامی میڈیا نے امریکی اسلحہ کے ذخائر میں کمی کی خبریں دی تھیں جس کی صدر ٹرمپ اور امریکی حکام نے تردید کی تھی مگر اسلحہ ساز کمپنی کو اربوں ڈالر کے میزائلوں کی تیاری کے آرڈر نے اس خبر کو سچ ثابت کر دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے معروف اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو پیٹریاٹ میزائل بنانے کے لیے 58.6 ارب ڈالر تک کا معاہدہ دیا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق یہ معاہدہ پہلے سے موجود 4.7 ارب ڈالر کے ایک سالہ معاہدے کو سات سالہ منصوبے میں تبدیل کرتا ہے جس کے تحت مالی سال 2026 سے 2032 تک پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل تیار کیے جائیں گے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے باعث امریکا کے اہم دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

امریکا نے اتحادی ممالک کو بڑی مقدار میں ہتھیار فراہم کیے جبکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران بھی بڑی تعداد میں گولہ بارود استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے ایران کی فوجی طاقت توڑ دی، تہران اب معاہدہ چاہتا ہے ، ٹرمپ کا دعویٰ

لاک ہیڈ مارٹن کے مطابق نئے فنڈز کے ذریعے 2030 تک پی اے سی تھری ایم ایس ای میزائلوں کی پیداواری صلاحیت تین گنا بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی آرکنساس پلانٹ میں ملازمتوں میں بھی 50 فیصد اضافے کا ارادہ رکھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاک ہیڈ مارٹن 2030 تک اپنی 20 سے زائد امریکی تنصیبات کو جدید بنانے کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جس میں الاباما اور آرکنساس میں نئے میزائل مراکز بھی شامل ہیں۔

پی اے سی تھری ایم ایس ای پیٹریاٹ دفاعی نظام کا جدید میزائل ہے جو بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔