اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)سابق وزیرصدر و وزیر اعظم /ایم ایل اے سردار محمد یعقوب خان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیاکہ اسمبلی کا یہ اجلاس وفاقی وزراء کی طرف سے راولاکوٹ میں ہونے والے حالیہ واقعات پر دیئے گئے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بالخصوص وزیر دفاع کے منصب پر بیٹھے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف جس نے راولاکوٹ کے لوگوں کو کشمیری تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔
اس معزز ایوان کی رائے میں وزیراعظم پاکستان کو اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔ جناب سپیکر یاداش بخیر 1832کو زندہ کھالیں کھچوانے والوں کا تعلق اسی دھرتی سے تھا۔
23مارچ 1940کو قراردادپاکستان میں کشمیریوں کی نمائندگی کرنے والے غلام حیدر جنڈالوی، سمیت 19جولائی 1947کو الحاق پاکستان کی قرارداد اوربانی صدر غآزی ملت سردار محمد ابراہیم خان بھی اسی دھرتی کے بیٹے تھے۔
آزادی کی جنگ کے ہیروز کیپٹن حسین خان شہید ،خان آف منگ خان محمد خان جسیے اکابرین کی قربانیوں سے انکار پر افسوس ہے۔ قرارداد میں کہاگیا کہ وفاقی وزراء کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر اسمبلی اجلاس، بھارتی اقدام کی مذمت، پونچھ کے حالات پر ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کا مطالبہ
ان کے اس طرز عمل سے راولاکوٹ اور ریاست کے دیگر علاقوں اور بیرون ملک کشمیر یوں پر منفی اثرات مرتب ہوئےہیںَ
اس معزز ایوان کی توسط سے یہ مطابہ کرتا ہوں کہ چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دی گئی Truth and reconciliation Commission کے قیام کی تجوزیز پر عملدرآمد کیا جائے اور اس وقت تک راولاکوٹ میں کسی بھی کاروائی کو روکا جائے۔
نیز الیکشن کمیشن صاف اور شفاف الیکشن کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ میرپور ڈویژن کے اندر حالیہ الیکشن میں جو بے ضابطگیاں کی گئیں ،ان کو دور کر کے الیکشن کروائے جائیں۔
یہ ہمارے لوگ ہیں ہمیں ان سے بات کرنے ہو گی ۔ الیکشن اپنی جگہ پر لیکن دو طرفہ نقصان ہمارا ہے۔ ہمارا دشمن بھارت پوری دنیا میں اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔
جناب سپیکر موجود ہ صورتحال میں Truth and reconciliation Commissionہی واحد حل ہے۔جواس صورتحال سے ریا ست کو مزید انتشار سے بچا سکتا ہے۔
ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان اآزادکشمیر کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ راولاوکوٹ اور دیگر جگہوں پر عوام اور فورسز کی شہادتوں کو ناقابل تلافی نقصان قراردیتا ہے۔
موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ریاست میں مزید جانی نقصان سے بچا جائے۔ ایسی نازک صورتحال میں بعض سیاسی راہنماؤں کی جانب سے آزادکشمیر کے عوام کو بالعموم بھارتی آلہ کار قراردینا تاریخی حقائق کے منافی ہے اورآزادکشمیر کے لوگوں کا ریاست پاکستان کے ساتھ لازوال رشتے کی توہین ہے ۔
اس معزز ایوان کی رائے میں ریاست پاکستان تحریک آزادی کشمیر کی پشت بان ہے اور پاکستان کے عوام اور سیکیورٹی اداروں کی کشمیر کے حوالہ سے دی گئی تمام قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ ایوان یہ مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر ایک کمیشن مقرر کر کے آزادکشمیر میں امن کو ایک موقع اور فراہم کیا جائے۔




