کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد حملے: آزاد کشمیر پولیس نے شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کر دیا

آزاد جموں و کشمیر کے شہر راولا کوٹ میں سکیورٹی اہلکاروں پر پرتشدد حملے کرنے والے مسلح گروہوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے آپریشنز کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ آزاد کشمیر پولیس کے سینئر حکام نے بدھ کے روز صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاستی اداروں پر حملے کرنے والے شرپسند عناصر کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

راولا کوٹ میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) خاور علی شوکت نے بتایا کہ مسلح حملہ آوروں نے شہر کی مختلف عمارتوں میں مورچہ بندی کر رکھی ہے اور وہ وہاں سے فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری عام انتخابات کے دوران کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے حامیوں اور فورسز کے درمیان شدید پرتشدد تصادم کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

کالعدم تنظیم، جدید اسلحہ کی برآمدگی اور رینجرز اہلکار کی شہادت:

یاد رہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت 5 جون کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا تھا، جس پر دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ پابندی تنظیم کی جانب سے 9 جون کو 1947 کے بعد پاکستان منتقل ہونے والے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مخصوص 12 قانون ساز اسمبلی کی نشستوں کے خاتمے کے مطالبات اور احتجاجی پروگرام سے قبل عائد کی گئی تھی۔

پریس کانفرنس کے دوران ایس ایس پی خاور علی شوکت نے انکشاف کیا کہ مسلح گروہ مختلف علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ ان پرتشدد حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک رینجرز اہلکار شہید ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جاری آپریشنز کے دوران پولیس نے متعدد شرپسندوں کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے انتہائی جدید اور خطرناک اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر پولیس نے راولاکوٹ سے متعلق سوشل میڈیا پر زیرگردش خبریں مسترد کر دیں

ریاستی اداروں کا موقف اور وفاقی حکومت کی حمایت:

پولیس ترجمان نے سکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں پر حملوں کو ناگفتہ بہ اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں نے ہمیشہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اب اداروں کو نشانہ بنانے والوں سے مکمل آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ ایس ایس پی شوکت کے مطابق ان شرپسندوں کے تانے بانے کہیں اور سے ملتے ہیں اور ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز آزاد کشمیر کے امن کو کسی صورت تباہ نہیں ہونے دیں گی۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی کالعدم ایکشن کمیٹی کے تشدد کو جاری انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے اور خطے کے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وفاق آزاد کشمیر حکومت کو شرپسندوں کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ممکنہ تعاون فراہم کرے گا۔ وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ یہ تحریک حقوق دلانے کی نہیں بلکہ کشمیریوں سے ان کا جمہوری اور ووٹ کا حق چھیننے کی کوشش ہے۔

واضح رہے کہ آزاد کشمیر الیکشن کے پہلے مرحلے کی پولنگ 27 جولائی کو میرپور، کوٹلی اور بھمبر اضلاع کی 13 نشستوں پر مکمل ہوئی، جس میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 9 جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر الیکشن: پیپلز پارٹی شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے: ن لیگ کا بلاول بھٹوکو جواب