تحریر: مقصود منتظر
اف اللہ! کیا کمال کا احتجاج ہے۔ شاید دنیا کا یہ واحد احتجاجی دھرنا ہے جسے دیکھ کر ناظر ایک لمحے کے لیے بھی بور نہ ہوا ہو۔ سنجیدہ تقاریر، سیاسی نعرے، سخت مطالبات اور ان سب کے ساتھ ایسا طنز و مزاح کہ پورا ماحول کسی تخلیقی میلے کا منظر پیش کررہا ہے۔
بات ہو رہی ہے کاکروچ جنتا پارٹی کے اس احتجاج کی جو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ایک ماہ تک جاری رہا اور ہنوز جاری ہے ۔ اس احتجاج نے صرف حکومت پر دباؤ ہی نہیں ڈالا بلکہ اپنی منفرد پیشکش، تخلیقی انداز اور ڈیجیٹل دور کی زبان میں اظہار کے باعث دنیا بھر کی توجہ بھی حاصل کی۔
سب سے دلچسپ بات خود پارٹی کا نام تھا۔ “کاکروچ جنتا پارٹی”۔ پہلی نظر میں یقین ہی نہیں آتا کہ کسی سیاسی جماعت کا ایسا نام بھی ہوسکتا ہے۔ اس نام کی بنیاد بھارتی سپریم کورٹ کے اُس تبصرے پر رکھی گئی جس میں چیف جسٹس نے نوجوانوں کو “کاکروچ” کہا تھا۔ ایک نوجوان نے اسی لفظ کو احتجاج کی شناخت بنا دیا، پارٹی قائم کی، منشور جاری کیا، ویب سائٹ بنائی اور دھرنے کا اعلان کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں نوجوان اس تحریک سے جا ملے۔
جنتر منتر پر احتجاج شروع ہوا تو یوں لگا جیسے فن، موسیقی، طنز اور احتجاج ایک ہی اسٹیج پر جمع ہو گئے ہوں۔ ایک طرف تقاریر اور نعرے، دوسری طرف مسلسل تخلیقی سرگرمیاں۔ جس نوجوان کو جو فن آتا تھا، وہ اسی کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہا تھا۔ کوئی اسپائیڈر مین بن کر آتا، کوئی مزاحیہ کردار اختیار کرتا، کہیں شاعری ہو رہی تھی، کہیں تھیٹر، اور کہیں ایسی مختصر ویڈیوز بن رہی تھیں جنہیں دیکھ کر ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا تھا۔
ایک ویڈیو میں چند نوجوان چائے پی رہے ہیں جبکہ ایک موبائل پر بات کرتے ہوئے فرضی انداز میں چین کے صدر سے کہتا ہے: “مسٹر شی، تین کپ چائے کے لیے فنڈ بھیج دیں۔” یہ دراصل حکومت کی جانب سے بیرونی فنڈنگ کے الزامات پر طنز تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی نوجوانوں کی تحریک زور پکڑنے لگی، بیرون ممالک میں بھی مودی سرکار کیخلاف احتجاج
ایک اور منظر میں مظاہرین پولیس سے درخواست کرتے ہیں کہ واٹر کینن ایک بار پھر چلایا جائے۔ وجہ؟ پہلے پانی پھینکا گیا تو نوجوان اسی پانی میں مشہور گانے پر رقص کرنے لگے۔ گرمی بھی دور ہوئی اور احتجاج بھی یادگار بن گیا۔
کئی نوجوان روزانہ تھیٹر کے انداز میں پیپر لیک اور حکومتی پالیسیوں پر طنزیہ پرفارمنس پیش کرتے رہے۔ ایک گروپ کا خاموش احتجاج، جس میں وہ صرف “ہو۔۔ ہو۔۔” کی آواز نکالتے ہیں، سوشل میڈیا پر لاکھوں بار دیکھا گیا۔
اسی احتجاج میں ایسے بینرز بھی دکھائی دیے جنہوں نے سیاسی طنز کو نئی جہت دی۔ ایک نوجوان کہتا ہے، “دارو نے چند گھرانے تباہ کیے، لیکن چائے والے نے پورا دیش تباہ کر دیا۔”
ایک اور ویڈیو میں نوجوان پولیس اہلکار سے پوچھتا ہے، “چور تو پارلیمنٹ میں ہیں، آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟” اور پھر پورا مجمع قہقہوں سے گونج اٹھتا ہے۔
گودی میڈیا پر طنز، حکومتی بیانیے کا مزاحیہ جواب، نوجوانوں کی حاضر جوابی اور تخلیقی انداز اس دھرنے کو صرف احتجاج نہیں بلکہ ڈیجیٹل دور کے ایک منفرد سماجی مظہر میں تبدیل کرتے رہے۔
اس احتجاج کا ایک سنجیدہ پہلو بھی تھا۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی مقام پر موجود تھے۔ کئی مسلم تنظیموں نے مظاہرین کے لیے کھانے کا انتظام کیا، بعض مساجد نے آرام اور وضو کی سہولت فراہم کی، جبکہ سکھ برادری نے بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔
اس ماحول میں مختلف طبقات کو اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا اور ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ بھی دیکھنے میں آیا۔یہ دھرنا اپنی تخلیقی حکمت عملی، ڈیجیٹل زبان، طنز، موسیقی، تھیٹر اور نوجوانوں کی توانائی کے باعث منفرد رہا۔
اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ احتجاج صرف غصے کا اظہار نہیں، بلکہ فن، مزاح اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے بھی مؤثر انداز میں اپنی بات دنیا تک پہنچائی جا سکتی ہے۔
شاید تحریر اس پورے منظر کو مکمل طور پر بیان نہ کر سکے۔ اگر آپ اس دھرنے کی ویڈیوز، مختصر ریلز اور پرفارمنس دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ احتجاج کے روایتی تصور سے ہٹ کر یہ ایک منفرد تجربہ تھا، جس نے ڈیجیٹل دور میں اظہار کے نئے انداز متعارف کرائے۔




