وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں پائیدار اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کیلئے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
حکومت نے آئندہ چند سالوں کے دوران 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا بڑا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد ایندھن کی مد میں خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کرنا اور ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر مؤثر قابو پانا ہے۔
کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے ملکی معیشت پر روایتی ایندھن کے بھاری بوجھ کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔
یہ تمام موٹرسائیکلیں سالانہ کم و بیش 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑتا ہے بلکہ شہروں میں فضائی آلودگی اور اسموگ کے مسائل میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسمبلنگ پلانٹ کی تکمیل قریب، الیکٹرک گاڑی جلدمتعارف کروائیں گے، بی وائی ڈی کا اعلان
عدنان پاشا نے واضح کیا کہ حکومت عام شہریوں بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری کی طرف راغب کرنے کیلئے خصوصی ترغیبات فراہم کر رہی ہے۔
اس سلسلے میں شہریوں کو نہ صرف حکومت کی جانب سے مالی سبسڈی دی جا رہی ہے بلکہ بلاسود فنانسنگ کی آسان سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ایندھن پر قومی انحصار کو تدریجاً کم کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ فی الوقت ملک میں الیکٹرک بائیکس کی مقامی سطح پر تیاری، پرزہ جات کی دستیابی اور سپلائی چین کے حوالے سے کچھ چیلنجز موجود ہیں۔
تاہم حکومت مقامی انڈسٹری کی حوصلہ افزائی اور ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی اے نےکروڑوں موبائل صارفین کے لیے نئی سہولت متعارف کردی
انہوں نے انشورنس سیکٹر پر بھی زور دیا کہ وہ نئی گرین ٹیکنالوجی اور الیکٹرک گاڑیوں کیلئے جدید اور آسان انشورنس مصنوعات
پیش کرے تاکہ اس شعبے کی تیز رفتار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔




