مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل): آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کے سلسلے میں پولنگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے باوجود پونچھ ڈویژن کے 7 اہم حلقہ جات میں سرکاری ملازمین کے ووٹوں کی پولنگ نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ اس وقت آزاد کشمیر کے عوام اور سیاسی حلقوں میں یہ اہم سوال شدت سے گردش کر رہا ہے کہ کیا امن و امان کی موجودہ صورتحال اور دھرنوں کے باعث جنرل الیکشن میں بھی پونچھ ڈویژن کے ان حلقوں کی پولنگ کو مؤخر کر دیا جائے گا؟
اگرچہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس التوا کے حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اور حتمی موقف سامنے نہیں آیا ہے اور الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہی منعقد کیے جائیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر کا موقف اور پونچھ ڈویژن کی زمینی صورتحال:
گزشتہ روز سرکاری ملازمین کے ووٹوں کے اندراج اور پولنگ کے دوران مختلف پولنگ اسٹیشنز کے معائنہ پر چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل نے اپنے عزائم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ “کسی کو بھی الیکشن کا عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی”۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات،ضابطہ اخلاق جاری، الیکشن کمیشن کا انتباہ جاری
تاہم سیاسی و سکیورٹی صورتحال اس عزم سے مختلف نظر آتی ہے۔ پونچھ ڈویژن میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی کے دھرنے اور احتجاج مسلسل جاری ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ دھرنے اور بے چینی اسی طرح برقرار رہتی ہے تو درپیش سکیورٹی خدشات اور امن و امان کی خراب صورتحال کے پیشِ نظر پونچھ ڈویژن کے 7 حلقوں میں شفاف انتخابات کا انعقاد تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
کیا 7 حلقوں کے بغیر قانون ساز اسمبلی قائم ہو سکتی ہے؟
اس پیدا شدہ تناظر میں ایک بڑا آئینی اور قانونی سوال یہ ابھرتا ہے کہ اگر پونچھ ڈویژن کے ان 7 حلقوں میں انتخابات نہ ہو سکے تو کیا آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے؟
آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق اگر پونچھ ڈویژن کے 7 حلقوں میں انتخابات کسی وجہ سے مؤخر بھی ہو جاتے ہیں، تب بھی باقی تمام حلقوں میں انتخاب کا عمل مکمل ہونے کے بعد نو منتخب ممبرانِ اسمبلی کے ساتھ قانون ساز اسمبلی اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے اور نئی اسمبلی تشکیل پا سکتی ہے۔
مخصوص نشستیں اور قائدِ ایوان (وزیراعظم) کے انتخاب کا پیچید ہ آئینی بحران:
تاہم ماہرین نے اس کے ساتھ ہی ایک بڑی آئینی پیچیدگی کی نشاندہی بھی کی ہے۔ اگر 7 حلقوں کا انتخاب نہیں ہوتا تو ایسی ادھوری اسمبلی کی صورت میں مخصوص نشستوں (خواتین، علماء و مشائخ، ٹیکنو کریٹس اور اوورسیز) کا انتخاب ہونا ممکن نہیں رہے گا۔
مزید پڑھیں: ملازمین کے ووٹوں کی گنتی 27جولائی انتخابات کے بعد ہوگی،الیکشن کمیشن
اور جب تک مخصوص نشستوں کے نتائج سامنے نہیں آتے اور اسمبلی کا ایوان مکمل نہیں ہوتا، تب تک نئے قائدِ ایوان (وزیراعظم) کے انتخاب کا مرحلہ بھی آئینی طور پر طے نہیں پائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر پونچھ ڈویژن کے ان 7 حلقوں میں جنرل الیکشن کا عمل مؤخر ہوتا ہے تو آزاد کشمیر میں ایک بڑا آئینی و انتظامی جمود اور سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے۔




