خام تیل 90 ڈالر سے تجاوز کر گیا، پاکستان میں آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ ہوگا

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں زبردست ہلچل پیدا ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے شہریوں کی نظریں آئندہ فیصلے پر مرکوز ہوگئی ہیں۔

اسلام آباد سے موصول ہونے والی اقتصادی رپورٹ کے مطابق ملک میں حالیہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف تین دن کے لیے کیا گیا تھا، جبکہ 20 جولائی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ ردوبدل کا فیصلہ کیا جانا ہے۔ عالمی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے باعث اب یہ شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا نیا ریکارڈ:

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پیر کے روز برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 2.37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 90.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جو کہ گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی 2 فیصد سے زیادہ مہنگا ہو کر 84.20 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خطے میں جاری تنازع کے باعث سرمایہ کاروں کو شدید خدشہ ہے کہ اگر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو عالمی توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری جہازوں کے واقعات:

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں دو آئل ٹینکروں کے ناکارہ ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، تاہم اس دعوے کی فی الحال کوئی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے عمان کے علاقے کمزار کے شمال مغرب میں ایک بحری جہاز میں آگ لگنے کی باقاعدہ اطلاع دی ہے، جس کے بعد سمندری نقل و حمل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

توانائی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی تقریباً 20 فیصد تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر اس اہم گزرگاہ میں کشیدگی برقرار رہی یا تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کا اثر پاکستان سمیت مختلف ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑنے کا واضح امکان ہے۔

پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتیں:

یاد رہے کہ حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 310 روپے 71 پیسے سے بڑھ کر 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے اضافے کے بعد اسے 323 روپے 30 پیسے سے بڑھا کر 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز عالمی تیل مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی سپلائی سے متعلق پیش رفت ہی پٹرولیم مصنوعات کی آئندہ قیمتوں کا حتمی تعین کرے گی۔

مزید پڑھیں: پیٹرول پر 124.73، ڈیزل پر 112.65 روپے لیوی اور ٹیکس وصولی کا انکشاف