نیو جرسی کے اسٹیڈیم میں ورلڈ کپ فائنل کے اختتام پر شدید کشیدگی اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جہاں اسپین کی ۱۔۰ سے فتح کے فوری بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ اس تصادم کے دوران ارجنٹائن کے لیونڈرو پریڈیس نے ہسپانوی ڈیفینڈر ایرک گارسیا کا گلا پکڑ لیا، جس کے باعث پچ پر افراتفری پھیل گئی۔
ورلڈ کپ فائنل کے سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیو جرسی کے اسٹیڈیم میں جیسے ہی میچ ختم ہونے کی سیٹی بجی، جشن منانے اور مایوسی کے ملے جلے جذبات لڑائی کی شکل اختیار کر گئے۔ ہسپانوی کھلاڑیوں کی جانب سے تاریخی فتح کا جشن منایا جا رہا تھا کہ اسی دوران ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کے ساتھ ان کی تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔
پچ پر تصادم اور لیونڈرو پریڈیس کا جارحانہ رویہ:
میچ کے فوری بعد ارجنٹائن کے مڈفیلڈر لیونڈرو پریڈیس نے شدید غصے کی حالت میں ہسپانوی کھلاڑی ایرک گارسیا کو نشانہ بنایا۔ پریڈیس نے گارسیا کا گلا دبایا اور انہیں زمین پر گرا دیا، جس کے بعد دونوں ٹیموں کے متبادل کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو بیچ بچاؤ کے لیے میدان میں آنا پڑا۔
🚨🥊 Full scenes after final whistle.@MickyJnr__ 🎥 pic.twitter.com/ZXCvAFkHwy
— Fabrizio Romano (@FabrizioRomano) July 20, 2026
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈکپ، دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو شکست، سپین 16سال بعد چیمپئن بن گیا
اس بدسلوکی اور پچ پر لڑائی جھگڑا شروع کرنے کی پاداش میں ریفری نے ایکشن لیتے ہوئے ارجنٹائن کے لیونڈرو پریڈیس کو میچ کے بعد فوری طور پر ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔
میچ کی تفصیلات اور اسپین کی فتح:
اس ہنگامہ آرائی سے قبل فائنل میچ انتہائی سخت رہا، جہاں مقررہ وقت تک دونوں ٹیمیں کوئی گول اسکور نہ کر سکیں۔ اضافی وقت (ایکسٹرا ٹائم) کے ۱۰۶ ویں منٹ میں اسپین کے فیران ٹوریس نے شاندار گول کر کے اپنی ٹیم کو ۱۔۰ کی فیصلہ کن برتری دلائی، جو میچ کے خاتمے تک برقرار رہی اور اسپین دوسری بار ورلڈ چیمپئن بن گیا۔
ارجنٹائن کی ٹیم کو میچ کے دوران بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کے کھلاڑی انزو فرنینڈز کو ضابطے کے وقت میں ہی ریڈ کارڈ دکھا کر باہر بھیج دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ارجنٹائن کی ٹیم میچ کے آخری لمحات میں ۱۰ کھلاڑیوں تک محدود ہو گئی تھی۔




