اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے غلط راستہ اپنایا ، آئینی و قانونی معاملات دھرنے یا احتجاج سے حل نہیں ہوتے بلکہ یہ قانون ساز اسمبلی کا اختیار ہے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جارہے ہیں، ن لیگ آزادکشمیر کی تمام نشستوں پر کامیاب ہوگی، اسمبلی بنے گی 12 نشستوں کا معاملہ پھر وہاں لے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:کسی بھی شرپسند گروہ کو آزاد کشمیر کا پرامن ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے، رانا ثناء اللہ
انہوں نے کہا ایٹمی پروگرام پاکستان کی بقاکی ضمانت ہے، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی۔
رانا ثنا اللہ نے فضل الرحمان کے شہدا سے متعلق بیان کو نامناسب قرار دیا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنا بیان واپس لے لیں تو اس میں ان کی بڑائی ہے۔
رانا ثنا اللہ بولے ہنہ اوڑک میں دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کے لیے بہت سارے لوگ جانا چاہتے تھے، آبادی کو کہا جائےکہ دہشتگردی کیخلاف اپنی دفاع کیلئے تھوڑی بہت اہلیت پیدا کریں تو اعتراض والی بات کیا ہے۔
لگتا ہےکہ مولانا صاحب سے جوش خطابت میں بات ہوئی اس کے پیچھےکوئی لمبا چوڑا ایجنڈا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان ہمیشہ نپے تلے اور محتاط انداز میں بات کرتے ہیں، اس لیے ان کی رائے میں مولانا کا مقصد وہ نہیں تھا جو ان کی زبان سے نکلا۔
یہ بھی پڑھیں:رانا ثناء اللہ کی موجودگی میں ن لیگ اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی کرنل وقار نور کی حمایت
انہوں نے واضح کیا کہ شہدا کے بارے میں کہے گئے الفاظ ‘نامناسب’ تھے اور ان کی کسی صورت توثیق نہیں کی جا سکتی۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر فضل الرحمان اپنے الفاظ واپس لے لیتے تو یہ ایک مدبرانہ متبادل ہوتا تاہم انہوں نے ایک مختلف موقف اختیار کیا ہے۔




