کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی وادی میں انتشار پھیلانے کی آخری کوشش ناکام، لانگ مارچ ملتوی

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے وادی میں انتشار پھیلانے کی آخری کوشش بھی بری طرح ناکام ہو گئی ۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے ہمدردوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مجوزہ لانگ مارچ کو حکومت کے ساتھ مذاکرات یاممکنہ سمجھوتے کے باعث ملتوی کیا گیا ہے۔

تاہم باوثوق ذرائع اور عوامی حلقوں نے اس دعوے کو سراسر بے بنیاد، من گھڑت اور حقیقت کے برعکس قرار دے دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے غیور عوام نے جے اے اے سی کی اس احتجاجی کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم اس مہم کے لیے ضروری عوامی تائید اور افرادی قوت اکٹھی کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔

کالعدم ایکشن کمیٹی اس وقت ایک طویل مارچ شروع کرنے کیلئے درکار تنظیمی صلاحیت، مالی وسائل اور پختہ عزم سے یکسر محروم ہو چکی ہے۔

پرتشدد اور شرپسند عناصر سے سختی سے نمٹنے کیلئے ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے واضح اور پختہ موقف نے اس نام نہاد احتجاجی تحریک کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

اپنی اس تاریخی اور عبرت ناک ناکامی کا کھلے عام اعتراف کرنے کی ہمت نہ ہونے کے باعث، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما اب ایک فرضی کہانی تیار کر رہے ہیں تاکہ عوامی سطح پر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچایا جا سکے۔

مارچ کی منسوخی کو مذاکرات کا رنگ دینے کے لیے انٹرنیٹ پر چند مخصوص، بکاؤ اور ناقابلِ اعتبار سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان گمراہ کن دعووں کو پھیلانے والے افراد کے پاس نہ تو کوئی عوامی مینڈیٹ ہے اور نہ ہی ریاست کے ساتھ مذاکرات کا کوئی قانونی یا آئینی اختیار۔

سیاسی ماہرین اور عوامی حلقوں کا متفقہ طور پر کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے اس التوا کو ریاست کی طرف سے دی گئی کوئی رعایت یا لچک سمجھنے کے بجائے، عوامی حمایت حاصل کرنے میں ایکشن کمیٹی کی آخری اور حتمی ناکامی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ عوام اب سڑکوں کی سیاست اور روز روز کی ہڑتالوں سے تنگ آ چکے ہیں اور خطے میں امن و ترقی کے خواہاں ہیں۔