عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز نمایاں اضافے نے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں نئی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 86 ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ(WTI) بھی 80 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر چکا ہے۔
گزشتہ تین دنوں کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 3% سے 4% تک کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں اس تیزی کی بڑی وجہ سپلائی سے متعلق خدشات، مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔ اس مسلسل اضافے نے نہ صرف توانائی بلکہ دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔
پاکستان پر اثرات اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ:
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک پر اس اضافے کے براہ راست اور گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے سے ملک کا درآمدی بل یکدم بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول ، ڈیزل کی روز نئی قیمتیں؟ بڑی خبر آ گئی
اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل 85 سے 90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر برقرار رہتا ہے، تو آئندہ پندرہ روزہ جائزے میں پاکستان میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، حتمی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ، روپے کی قدر، فریٹ چارجز، انشورنس اخراجات، درآمدی لاگت اور حکومتی ٹیکس و لیوی پالیسی کو مدِنظر رکھ کر کیا جائے گا۔
توانائی ماہرین کے موجودہ مارکیٹ رجحانات پر مبنی تخمینوں کے مطابق، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 5 سے 10 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ متوقع ہے۔ تاہم، اس حوالے سے حتمی فیصلہ حکومت اوگرا کی سفارشات کی روشنی میں کرے گی۔
قیمتوں کے تعین کا روزانہ کا نیا مجوزہ نظام
اس سنگین صورتحال کے درمیان، حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ایک نیا طریقہ کار متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس نئے نظام کے نفاذ سے قیمتوں کے حتمی تعین میں حکومت کا اپنا کردار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔
اس مجوزہ منصوبے کے تحت:
واحد ذمہ دار: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ہر رات پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے کی واحد مجاز اتھارٹی ہوگی۔
اطلاق کا وقت: روزانہ تبدیل ہونے والی یہ نئی قیمتیں ہر رات 12 بجے سے ملک بھر میں لاگو کر دی جائیں گی۔
مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا یہی رجحان برقرار رہا، تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں، بجلی کی پیداواری لاگت، صنعتی شعبے، زرعی اخراجات اور روزمرہ کی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی یکدم اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ مال برداری کے کرائے بڑھنے سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی اور شدید لہر جنم لینے کا خطرہ سر اٹھا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کے اہلکار پر کلعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین کا تشدد، زبردستی ویڈیو بھی بنا ڈالی




