آزاد کشمیر میں چھٹی گزارنے کے بعد ڈیوٹی پر واپس جانے والے اسلام آباد پولیس کے ایک کانسٹیبل کو کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین نے مبینہ طور پر اغوا کے بعد شدید وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ہے. مظاہرین نے کانسٹیبل کو زبردستی انڈین کرنسی تھما کر اس کی تصاویر اور ویڈیوز بھی ریکارڈ کیں، جس کے بعد اسے نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا گیا.
اسپیشل برانچ کے کنٹرول روم کی جانب سے 15-07-2026 کو صبح 08:30 بجے فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد پولیس کے کانسٹیبل نمبر 9427 احتشام مسیح ولد اشتیاق مسیح کی ڈیوٹی اسلام آباد سے راولا کوٹ لگائی گئی تھی. مذکورہ اہلکار کچھ عرصے سے غیر حاضر چل رہا تھا، جسے 14-07-2026 کو اپنی ڈیوٹی جوائن کرنا تھی.
گاڑی سے اتار کر وحشیانہ تشدد اور انڈین کرنسی کا ڈرامہ:
رپورٹ کے مطابق جب کانسٹیبل احتشام مسیح گوئی نالہ راولاکوٹ کے قریب افسر مارکیٹ پہنچا تو وہاں موجود مظاہرین نے اس کی گاڑی کو روکا. گاڑی کی تلاشی لینے کے بعد مظاہرین نے کانسٹیبل کو زبردستی نیچے اتار لیا. مشتعل مظاہرین نے نہ صرف اسے شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسے زبردستی انڈین کرنسی تھمائی اور اس حالت میں اس کی تصاویر اور ویڈیوز ریکارڈ کیں.
تشدد کے بعد مظاہرین زخمی اہلکار کو گوئی نالہ کے قریب بسم اللہ ہوٹل کے پاس پھینک کر فرار ہو گئے. زخمی کانسٹیبل وہاں سے کسی طرح آزاد پتن چوکی پہنچنے میں کامیاب ہوا اور وہ اس وقت وہیں موجود ہے.
یہ بھی پڑھیں: بیٹھک بلوچ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارندوں کی فائرنگ،ایک اہلکار شہید،8زخمی
کشیدگی کا پس منظر اور متوازی چیک پوسٹیں:
آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان مختلف مطالبات کے حوالے سے گزشتہ طویل عرصے سے کشیدگی چل رہی ہے. مظاہرین کی جانب سے ماضی میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے اور راستوں کی بندش کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت نے اس تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا. اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو راولا کوٹ اور آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع میں سیکیورٹی اور اہم فرائض کے لیے بھیجا جاتا رہا ہے اور حالیہ واقعہ اسی جاری کشیدگی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے جہاں اب سرکاری ملازمین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے.
ایک کالعدم تنظیم کے کارندوں کی جانب سے سرعام گاڑیوں کی تلاشی لینا اور پولیس کانسٹیبل کو شناخت کے بعد تشدد کا نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ شرپسند عناصر آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں اپنی متوازی چیک پوسٹیں قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ریاستی رٹ کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے.
بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے روابط کا انکشاف اور ریاستی رٹ:
شرپسندوں کی جانب سے پاکستانی پولیس اہلکار کو زبردستی انڈین کرنسی دے کر ویڈیو بنانا محض ایک اتفاق یا عام غصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست کے خلاف ایک گہرا پروپیگنڈا ڈیزائن معلوم ہوتا ہے. اس کا مقصد سوشل میڈیا پر یہ تاثر دینا ہو سکتا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے لوگ کسی بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں یا خطے میں کسی دوسرے ملک کا اثر و رسوخ دکھا کر عوام کو اشتعال دلایا جا سکے.
اس لرزہ خیز واقعے پر عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ترین غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے. عوامی حلقوں نے اپنے ردِعمل میں واضح طور پر کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے اہلکار کو زبردستی انڈین کرنسی تھما کر ویڈیو بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے رقم حاصل کر رہے ہیں. عوامی حلقوں کے مطابق، اس قسم کے گھناؤنے اور شرپسندانہ ہتھکنڈے محض ملکی اداروں کو بدنام کرنے اور دشمن ملک کے پاکستان مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں. انہوں نے سوال اٹھایا کہ تمام تر پابندیوں کے باوجود ان لوگوں کے پاس بھارتی کرنسی آخر کہاں سے آئی؟ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے پاکستان دشمن عناصر کے خلاف اور اس پروپیگنڈا نیٹ ورک کے خلاف سیکیورٹی ادارے اب سخت قانونی اور آپریشنل حکمت عملی اپنائیں.




