گوجرانوالہ کی مقامی عدالت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف مبینہ طور پر متنازع تقریر پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے انہیں عدالت میں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل اور ابتدائی کارروائی کے بعد جے یو آئی سربراہ کو باقاعدہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔
رپورٹس کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف گوجرانوالہ کے مقامی سینئر قانون دان منظور قادر ایڈووکیٹ کی جانب سے ایک اہم درخواست دائر کی گئی تھی۔ اس قانونی درخواست میں درخواست گزار کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کی جانے والی مبینہ متنازع تقریر کے حساس معاملے پر فوری طور پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ملک میں قانون اور آئین کے تقاضوں کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے بیان پر آزاد کشمیر میں بھی شدید ردِعمل، پاک فوج پر تنقید ناقابلِ قبول قرار
ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل کی عدالت میں اہم سماعت:
درخواست کی تفصیلی سماعت گوجرانوالہ کے ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل کی معزز عدالت میں ہوئی، جہاں انہوں نے درخواست گزار کے دلائل کو غور سے سنا۔ معزز جج نے ابتدائی قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کو باقاعدہ طور پر طلبی کے نوٹسز جاری کرنے کا اہم ترین حکم جاری کر دیا۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت یعنی 28 جولائی کو ہر صورت عدالت کے روبرو پیش ہوں۔ اس کے ساتھ ہی معزز سیشن عدالت نے متعلقہ پولیس حکام کو بھی سختی سے حکم دیا ہے کہ وہ اس مبینہ متنازعہ تقریر کے پورے معاملے اور الزامات سے متعلق ایک تفصیلی اور جامع رپورٹ تیار کر کے عدالت میں جلد از جلد جمع کرائیں تاکہ کیس کی مزید کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
قانونی تقاضوں کے تحت کارروائی کی استدعا:
ذرائع کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار منظور قادر ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے اپنا تفصیلی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس مبینہ متنازعہ گفتگو کے سنگین معاملے پر تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کارروائی آگے بڑھائی جانی چاہئے۔ معزز عدالت نے درخواست گزار کے پیش کردہ مختلف قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس کے بعد ہی آئندہ اہم سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی قیادت یا ان کے ترجمان کی طرف سے گوجرانوالہ کی مقامی عدالت میں دائر ہونے والی اس درخواست اور عدالتی طلبی کے حکم پر تاحال کوئی تفصیلی یا باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس اہم ترین عدالتی کارروائی کے بعد اب تمام نظریں 28 جولائی کو ہونے والی آئندہ سماعت پر مرکوز ہو گئی ہیں جب اس کیس کی باقاعدہ پیش رفت کا آغاز ہوگا۔




