ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے واشنگٹن سے مذاکرات جاری رکھنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی کوئی درخواست نہیں کی، البتہ قطر کی ثالثی کی کوششوں کے تحت قطری حکام کا دورہ ایران قبول کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا نیا دور کہاں ہوگا؟امریکی نیوز ویب سائٹ نے بڑا دعویٰ کردیا
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکا گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ایران بھی اسی نوعیت کا متناسب جواب دے گا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی وعدہ خلافی کا جواب باہمی اور متناسب کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے جس پر واشنگٹن نے آمادگی ظاہر کی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔
ایران کے تازہ بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی بیانات میں واضح تضاد سامنے آ گیا ہے جبکہ خطے میں کشیدگی کے باوجود ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔
دوسری طرف امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے جس کے ممکنہ طور پر سوئٹزرلینڈ میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیںجبکہ دو روز تک جاری رہنے والے حملوں کا سلسلہ بھی فی الحال تھم گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدرکا ٹیلیفونک رابطہ،امن کی فوری بحالی پر زور
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ قطر، پاکستان، مصر اور سعودی عرب کے حکام نے بدھ کے روز امریکی اور ایرانی حکام سے ٹیلیفونک رابطے کئے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کیا جا سکے۔
ثالثی کے عمل میں شامل ذرائع کے مطابق مختلف ممالک کی سفارتی کوششوں کا مقصد امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کرنا ہے، تاکہ تنازع کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔




