ہائی کورٹ

آزاد کشمیر ایڈہاک ایکٹ چیلنج ،ہائی کورٹ کا محکمہ سروسز کو نوٹس، تفصیلی جواب طلب

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں ایڈہاک ایکٹ کے خلاف دائر درخواست پر قانونی کارروائی کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے اس کیس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (S&GAD) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا تفصیلی تبصرہ اور سرکاری مؤقف عدالت کے سامنے پیش کرے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر ایڈہاک ایکٹ چیلنج ،ہائی کورٹ کا محکمہ سروسز کو نوٹس، تفصیلی جواب طلب
دوسری جانب یہ کیس عوامی اور ملازمین کے حلقوں میں شدید توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ متعدد متاثرہ اور دلچسپی رکھنے والے افراد نے اس مقدمے میں فریق بننے (Impleadment)کیلئے باقاعدہ درخواستیں دائر کر دی ہیں۔

ان درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ایڈہاک ایکٹ سے متعلق عدالتی فیصلے کے ان کے مستقبل پر براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے، اس لیے انہیں بھی اپنا قانونی موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

ذرائع کے مطابق، ہائی کورٹ کا بینچ آئندہ ہفتے شیڈول ابتدائی سماعت کے دوران ان تمام متفرق درخواستوں اور کیس کے حوالے سے اٹھائے گئے ابتدائی اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر ، ایڈہاک ڈاکٹروں کو ہٹانے کا حکم معطل ، فریقین کو نوٹس جاری
محکمہ سروسز کے تبصرے اور فریقین کے دلائل سامنے آنے کے بعد ہی عدالت اس ایکٹ کی آئینی و قانونی حیثیت کا تعین کرے گی۔