یورپ کے دل میں واقع ایک چھوٹا سا ملک ’’لیختینستائن‘‘ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے بھلے ہی دنیا کے نقشے پر بہت معمولی نظر آئے لیکن امن، استحکام اور معاشی مضبوطی میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان محصور اس ملک کی کل آبادی محض 40 ہزار کے قریب ہے لیکن یہاں کا معیارِ زندگی دنیا کے بلند ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔
بغیر ایئرپورٹ اور اپنی کرنسی کے چلنے والا ملک:
اس ملک کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کوئی کمرشل ایئرپورٹ موجود نہیں ہے۔ لیختینستائن آنے والے سیاح اور مسافر پڑوسی ممالک (سوئٹزرلینڈ یا آسٹریا) کے ہوائی اڈوں پر اترتے ہیں اور وہاں سے سڑک یا ریل کے ذریعے یہاں پہنچتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، اس ملک کی اپنی کوئی ذاتی کرنسی بھی نہیں ہے بلکہ یہاں سرکاری طور پر پڑوسی ملک سوئٹزرلینڈ کی کرنسی ‘سوئس فرانک’ ہی استعمال کی جاتی ہے۔
مضبوط معیشت اور بلند معیارِ زندگی:
محدود رقبے کے باوجود لیختینستائن کی معیشت کا شمار دنیا کی مستحکم ترین معیشتوں میں ہوتا ہے۔ اس کی خوشحالی کا بڑا انحصار بینکنگ سیکٹر، جدید صنعتوں، ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ اور عالمی مالیاتی خدمات پر ہے۔ انھی مضبوط معاشی بنیادوں کی وجہ سے یہاں کے شہری ایک بہترین اور پرآسائش زندگی گزار رہے ہیں۔
امن و امان کی مثالی صورتحال:
امن و امان کے معاملے میں یہ ملک دنیا کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے جہاں جرائم کی شرح تقریباً صفر ہے۔ پورے ملک کی سیکیورٹی کے لیے سو سے بھی کم پولیس اہلکار تعینات ہیں، اور امن کی حالت یہ ہے کہ بعض اوقات ملک کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد دس سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
برطانوی شاہی خاندان سے بھی امیر حکمران:
مختلف رپورٹس کے مطابق، لیختینستائن کا شاہی خاندان دنیا کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس شاہی خاندان کے اثاثے برطانوی فرمانروا کنگ چارلس کی مجموعی دولت سے بھی زیادہ بتائے جاتے ہیں۔
دولت کے باوجود سادگی پسند شہری:
اس غیر معمولی اور بے حساب دولت کے باوجود یہاں کے عوام کی ایک بڑی خصوصیت ان کا سادہ طرزِ زندگی ہے۔ یہاں کے شہری نمائش اور دکھاوے سے دور، ایک پرسکون اور نجی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔




