مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور وزیر اعظم سردار یعقوب خان نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کا مستقل اور پائیدار حل صرف پرامن مذاکرات اور سنجیدہ بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دیرپا حل کے حصول کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اسی مثبت سمت میں اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں مسلسل جاری رکھنی چاہییں۔
سابق صدر و وزیر اعظم سردار یعقوب خان نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ آج ہر فرد اس حقیقت کا مکمل احساس رکھتا ہے کہ ایسے تمام پیچیدہ معاملات کو طاقت کے اندھے استعمال کے بجائے صرف اور صرف بامقصد مذاکرات کے ذریعے ہی خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت بھی اس حوالے سے مختلف سطحوں پر تعمیری کوششیں پوری تندہی کے ساتھ جاری ہیں، جنہیں اب مزید آگے بڑھانے اور فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان اور پاک فوج پر کشمیریوں کا اعتماد:
سردار یعقوب خان نے کشمیری عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے غیور عوام نے ہمیشہ ریاست پاکستان اور پاک فوج پر اپنا بھرپور اور غیر متزلزل اعتماد کیا ہے، اور کشمیری ہر محاذ پر پاکستان اور پاکستان فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ کشمیریوں اور پاک فوج کی اس مضبوط یکجہتی کے سامنے بھارت اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کسی بھی حلقہ میں انتخابات ملتوی نہیں ہوں گے، الیکشن کمیشن کا اعلان
آزاد کشمیر انتخابات اور اسمبلی کا کردار:
خطے کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں انتخابی مہم پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان صاف اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں بننے والی نئی اسمبلی عوامی امنگوں کے مطابق خطے کے تمام دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں اپنا مؤثر ترین کردار ادا کرے گی۔
افہام و تفہیم اور تحمل کا مظاہرہ:
سردار یعقوب خان نے ایک بار پھر بات چیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ سو فیصد اس اصولی موقف کے حامی ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ امن، باہمی افہام و تفہیم اور استحکام کے ذریعے حل ہونا چاہیے کیونکہ تمام مسائل کا حتمی حل صرف مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ہی نکالا جا سکتا ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ دیرپا امن اور استحکام کی واحد ضمانت صرف بات چیت کا راستہ اختیار کرنے میں ہی پنہاں ہے۔




