ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی میت ہیلی کاپٹر کے ذریعے قم پہنچادی گئی ہے جہاں آج ایک بار پھر نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
اس سے پہلے تہران میں نماز جنازہ ادا کی گئی جہاں روسی میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے جلوس جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی۔لوگوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ خلا سے بھی ہجوم دیکھا جاسکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:تہران میں ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا، فضا سوگوار
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کے جلوس جنازہ میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ افراد نے شرکت کی۔
خبررساں ایجنسی رائٹرز نے سیٹیلائٹ تصاویر جاری کی ہیں جس میں جلوس جنازہ میں شریک افراد کو دکھایا گیا ہے۔
شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی میت آج شام کو عراق کے شہر نجف لے جائیگی جہاں کل ایک بار پھر نماز جنازہ ادا کی جائیگی ، ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان، سپیکر باقر قالیباف اور دیگر بھی نجف میں نمازجنازہ میں شریک ہوں گے۔
رائٹرز کے مطابق جلوس جنازہ قومی سطح پر الوادعیہ سے بڑھ کر تھا۔جلوس جنازہ بعد از جنگ مزاحمت کی علامت تھا اور اس میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا۔
ماہرین کے حوالےسے رائٹرز کا کہنا ہے شرکا نےامریکا اور اسرائیل کو پیغام دیا کہ ایران کے حصے بخرے کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خامنہ ای کی آخری رسومات دیکھ کر حیران ہوں،چاہتے تو سب کو نشانہ بنا سکتے تھے، امریکی صدر
ایران اس جنگ میں محفوظ رہا ہے اور یہی بقا اور مزاحمت ایران کی مذاکراتی حکمت عملی کی بنیاد بنے گی۔
ماہرین کے مطابق اس جلوس جنازہ نے آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر ورسوخ بڑھایا ہے اوراس قابل کیا ہےکہ نیوکلیئر پروگرام پر کوئی بھی ڈیل اس بات کو تسلیم کرنے سے جڑی ہو کہ اس آبنائے کو ایران کنٹرول کرتاہے۔




