ابصار عالم

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کیخلاف رپورٹنگ کیوں کی؟سینئر صحافی ابصار عالم کو سنگین نتائج کی دھمکیاں

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی )کے خلاف رپورٹنگ کرنے پر ملک کے سینئر صحافی اور اینکر پرسن ابصار عالم کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں، جس کے بعد صحافتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ابصار عالم نے آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات و کردار کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور وی لاگز پر گہرا تجزیہ پیش کیا تھا۔
ان کی رپورٹنگ میں انتشاری تحریک کے بعض پہلوؤں اور اس کے پیچھے کارفرما محرکات پر سوالات اٹھائے گئے تھے، جسے کمیٹی کے حامیوں اور قوم پرست حلقوں کی جانب سے سخت ناپسند کیا گیا۔
اس رپورٹنگ کے ردعمل میں ابصار عالم کو سوشل میڈیا پر شدید ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں جانی نقصان سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی پر پابندی برقرار، لاشوں کیے حرمتی کرنیوالے قاتلوں کو کوئی رعایت نہیں ملے گی،ابصار عالم
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اور مختلف پریس کلبز سمیت تمام بڑی صحافتی تنظیموں نے ابصار عالم کو ملنے والی دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی بھی تجزیے یا رپورٹنگ سے اختلاف کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس کی آڑ میں صحافیوں کو ہراساں کرنا اور جانی دھمکیاں دینا سراسر غیر قانونی اور آزادیِ صحافت پر براہِ راست حملہ ہے۔
صحافتی برادری نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ابصار عالم کو دھمکیاں دینے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا سیاسی جنازہ بڑی دھوم سے نکل گیا: آزاد کشمیر میں انتخابی گہما گہمی عروج پر!
واضح رہے کہ آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال کے بعد وہاں رپورٹنگ کرنے والے دیگر صحافیوں کو بھی سکیورٹی کے شدید خطرات کا سامنا ہے۔