آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار امان خان نے احتجاج ناکام ہونے پربالآخربھارت سے مدد مانگ لی۔
مظاہرے کے 26 ویں روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور ریاستی اداروں پر سنگین اور بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ جسکا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ۔
سردار امان خان نے اشتعال انگیز گفتگو کرتے ہوئے بھارت کے زیرِ انتظام جموں کے علاقوں پونچھ، مینڈھر، راجوری اور ڈوڈہ کے عوام سے مدد کی اپیل کی اور اپنے حامیوں کو تشدد پر اکساتے ہوئے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں عوام کے پاس متبادل راستے موجود ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈڈیال میں مسلح افراد کا پولیس پرحملہ، ایک اہلکار شدید زخمی، زندگی اورموت کی کشمکش میں مبتلا اہلکارہنگامی بنیادوں پر قریبی ہسپتال منتقل
دورانِ احتجاج سردار امان خان نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین ہفتوں سے آزاد کشمیر میں خوراک کی فراہمی معطل ہے جس سے علاقے میں غذائی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ تاہم، سرکاری ذرائع اور انتظامیہ نے ان تمام دعووں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
23 جون کو ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں چیف سیکرٹری اور آئی جی آزاد کشمیر نے ایسے دعوؤں کو مسترد کیا گیا تھاحکام کے مطابق ریاست بھر کی تمام اہم شاہراہیں ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھلی ہیں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل بلاتعطل جاری ہے۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر نے خود امدادی اور تجارتی سامان سے لدے ٹرکوں کو روکنے اور لوٹنے کی کوشش کی، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنایا اور سامان کو محفوظ کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد میں سیکیورٹی فورسز کا سڑکوں پر مارچ، شہریوں میں احساسِ تحفظ، شرپسند عناصر کو واضح پیغام
شہریوں کو خوراک، ادویات یا ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ کے تمام پروپیگنڈا دعوے حقیقت کے برعکس ہیں۔





