میرپور:آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور میں 5 جولائی کو ایک بہت بڑے امن مارچ اور ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں انجمن تاجران، وکلا، ڈاکٹروں، سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت عام شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔ امن مارچ کے منتظمین اور مقررین کا واضح طور پر کہنا تھا کہ اس بڑے پیمانے پر نکالی جانے والی ریلی کے ذریعے کالعدم ایکشن کمیٹی کی کال کو عوامی سطح پر مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔
بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والی اس ریلی کا باقاعدہ آغاز قائداعظم اسٹیڈیم سے ہوا، جس کے بعد یہ شرکا کے جوش و خروش کے ساتھ میاں محمد روڈ سے ہوتی ہوئی چوک شہیداں پہنچی۔ چوک شہیداں پہنچنے پر یہ ریلی ایک بہت بڑے عوامی جلسے کی شکل اختیار کر گئی جہاں شرکا نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی پرچم لہرا رکھے تھے۔ ریلی اور جلسے کے دوران پورے راستے شرکا کی جانب سے پاکستان، کشمیر اور افواجِ پاکستان کے حق میں زبردست نعرے بازی کی گئی جس سے پورا ماحول گونج اٹھا۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع میرپور کے چاروں حلقوں کی نئی انتخابی فہرستیں جاری، کل ووٹرز اور پولنگ اسٹیشنز کی مکمل تفصیلات سامنے آ گئیں
جلسہِ امن سے مقررین کا خطاب اور اہم نکات:
چوک شہیداں میں منعقدہ اس عظیم الشان “جلسۂ امن” سے چوہدری محمود، جاوید بٹ، عبدالشکور مغل، گلنار حسین، نسرین ملک اور دیگر ممتاز مقررین نے خصوصی خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ریاستی عوام کے بنیادی مسائل دراصل سستی بجلی اور سستے آٹے کی فراہمی تھے، جنہیں حکومتِ پاکستان کے بروقت اور مثبت اقدامات کی بدولت اب مکمل طور پر حل کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اب اسمبلی کی 12 نشستیں عوامی مسائل کا حصہ یا ان میں شامل نہیں رہیں، بلکہ اس پورے معاملے کو دانستہ طور پر ریاست کے خلاف ایک گہری سازش کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقررین کا مزید کہنا تھا کہ ان مخصوص نشستوں پر مہاجرین کے نمائندے باقاعدہ منتخب ہو کر اسمبلی میں آتے ہیں اور ان مہاجرین نے پاکستان کی جانب ہجرت کرنے کے دوران ملک و ملت کے لیے بے شمار اور لازوال قربانیاں دی ہیں۔
نظریہِ کشمیر اور پاکستان سے لازوال رشتہ:
مقررین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان مہاجرین کی عظیم قربانیوں کو نظر انداز کرنا براہِ راست مسئلہ کشمیر کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ جلسے سے خطاب کے دوران مقررین نے سخت الفاظ میں الزام عائد کیا کہ چند مخصوص عناصر ریاست اور پاکستان کے باہمی مفادات کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں، لیکن عوام پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی، نظریاتی اور مذہبی رشتے کو کسی بھی صورت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔
مزید پڑھیں: میرپور : کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف سول سوسائٹی کی احتجاجی ریلی، پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار
مقررین نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ریاست کے غیور عوام کی حقیقی منزل صرف اور صرف پاکستان ہے اور “کشمیر بنے گا پاکستان” کا لازوال نظریہ ہمیشہ پوری قوت کے ساتھ برقرار رہے گا۔ جلسے کے باقاعدہ اختتام پر پاکستان کی معاشی ترقی و سلامتی، آزاد کشمیر کے استحکام اور شہداءِ کشمیر و پاکستان کے بلندیِ درجات کے لیے خصوصی طور پر رقت آمیز دعا کرائی گئی۔




