آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے ایک اور بڑی سیاسی و قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں انتخابی حلقہ ایل اے-7 بھمبر سے امیدوارِ اسمبلی اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کرنے کے فیصلے کو آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ ریٹرننگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے کاغذات برقرار رکھنے کے فیصلے کے خلاف ان کے ہم نامی مخالف امیدوار انوار الحق نے عدالتِ عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے، جس پر عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست کو باقاعدہ کارروائی کے لیے منظور کر لیا ہے۔
درخواست گزار انوار الحق نے ہائی کورٹ میں دائر آئینی رٹ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ آفیسر (RO) کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے چوہدری انوار الحق کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کیے، جو کہ قانونی بنیادوں پر درست نہیں ہے اور اسے ٹھوس قانونی نکات کے تحت عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ آفیسر کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری لطیف اکبر کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں چیلنج
فریقین کو نوٹسز جاری اور سماعت کی تاریخ مقرر:
آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے مقدمے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ابتدائی سماعت مکمل کرنے کے بعد اس آئینی رٹ پٹیشن کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کی جانب سے اس کیس میں چوہدری انوار الحق اور الیکشن کمیشن سمیت تمام متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
عدالت نے اس اہم ترین انتخابی و قانونی تنازع کی باقاعدہ سماعت کے لیے 9 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی ہے، جہاں فریقین کے وکلا کے تفصیلی اور حتمی دلائل سننے کے بعد عدالت کی جانب سے مزید قانونی کارروائی اور احکامات عمل میں لائے جائیں گے۔ حلقہ بھمبر کے اس ہائی پروفائل کیس نے خطے کے انتخابی دنگل اور سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔




