آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر نے ایڈہاک، عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور بڑی پیش رفت کرتے ہوئے منظور شدہ ایکٹ پر باقاعدہ عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے “دی آزاد جموں و کشمیر ریگولرائزیشن آف سروسز ایکٹ 2026” کے تحت ملازمین کی مستقلی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے تمام متعلقہ مقتدر حکام اور محکموں کو ضروری کارروائی کی باقاعدہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔
مظفر آباد میں محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (شعبہ جنرل) کی جانب سے مورخہ 30 جون 2026 کو جاری کردہ آفیشل سرکلر کے مطابق، خطے میں ملازمین کی مستقلی کا یہ دیرینہ قانون باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈہاک ملازمین کی مستقلی کا یہ عمل مکمل طور پر قانون اور مقررہ طریقہ کار کے تحت انجام دیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد عرصہ دراز سے مختلف سرکاری محکموں میں خدمات سرانجام دینے والے ملازمین کو قانونی تحفظ اور ملازمت کا استحکام فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملازمین کیلئے خوشخبری، 2ایڈہاک ریلیف الائونس بھی بنیادی تنخواہ میں ضم کرنیکا فیصلہ
اس قانون کے تحت تمام متعلقہ محکموں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اپنی انتظامی ذمہ داری اور دائرہ اختیار کے مطابق ایڈہاک، عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کی خدمات کو مذکورہ ایکٹ کی روح کے مطابق ریگولرائز کرنے کے لیے فوری طور پر تمام ضروری قانونی اور انتظامی اقدامات بلا تاخیر سرانجام دیں۔
تمام اعلیٰ حکام اور سربراہانِ محکمہ جات کو مراسلہ ارسال:
سیکشن آفیسر سروسز (جنرل-I) راجہ محمد شریف کی جانب سے دستخط شدہ یہ اہم ترین سرکاری مراسلہ تمام انتظامی سیکرٹریز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل)، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ترقیات)، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، جملہ سیکرٹری صاحبانِ حکومت، انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) مظفر آباد، محترمہ ایڈیشنل سیکرٹری (جریدہ/غیر جریدہ) محکمہ سروسز، اور جملہ سربراہانِ منسلک محکمہ جات بشمول خود مختار ادارہ جات و سپیشل انسٹیٹیوشنز کو تعمیل کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی، اس ہائی پروفائل فیصلے پر تیز رفتار عملدرآمد اور کڑی مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کے لیے مکتوب کی نقول پرنسپل سیکرٹری برائے وزيراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر، پرنسپل سٹاف آفیسر ہمراہ چیف سیکرٹری، پرائیویٹ سیکرٹری ہمراہ سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، پرائیویٹ سیکرٹری ہمراہ سیکرٹری قانون، انصاف، پارلیمانی امور و انسانی حقوق اور سسٹم ایڈمنسٹریٹر محکمہ سروسز کو بھی باقاعدہ طور پر ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ مانیٹرنگ کا عمل فوری شروع کیا جا سکے۔ اس قانون کے نفاذ سے آزاد کشمیر میں برسوں سے عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کا مستقبل محفوظ ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔




